0

ایران امریکہ کشیدگی کم کرانے کیلئے چین کا پس پردہ کردار

بیجنگ ، 24 اپریل (یو این آئی) ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے چین نے پسِ پردہ سرگرم کردار ادا کرنا شروع کر دیا اور ایران کو مذاکرات میں شامل رہنے کا مشورہ دیا۔
تفصیلات کے مطابق ایران اور اسرائیل/امریکہ کے درمیان جاری جنگ میں چین ایک اہم سفارتی کھلاڑی کے طور پر ابھرا ہے۔ عالمی توجہ کا مرکز بننے والے بیجنگ نے باضابطہ ثالث کا کردار ادا نہ کرنے کے باوجود دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پسِ پردہ اہم کردار ادا کیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ نے بتایا کہ بیجنگ نے تہران کو مشورہ دیا ہے کہ وہ عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کے عمل سے الگ نہ ہو اور بات چیت کا راستہ کھلا رکھے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین اس تنازع میں ایک عالمی طاقت کے طور پر اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے اور بیجنگ کی کوشش ہے کہ سفارتی مداخلت کے ذریعے خطے کو بڑی جنگ سے بچایا جائے، کیونکہ ایران امریکہ جنگ کے اثرات اب یورپ تک پھیلنا شروع ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب ایران کے خلاف جنگ کی صورتحال نے یورپی معیشت اور استحکام کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اس حوالے سے اہم سفارتی رابطے بھی سامنے آئے ہیں۔ ترک صدر نے جرمن ہم منصب سے ٹیلیفونک گفتگو میں خبردار کیا کہ اگر اس رجحان کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو تنازع کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات موجودہ اندازوں سے کہیں زیادہ سنگین ہوں گے۔
جرمنی نے ایران سے سفارتی پیشکش قبول کرنے کی اپیل کی، جرمن وزیرخارجہ کا کہنا ہے امن مذاکرات کا موقع ضائع نہ کیا جائے، ایران کو بات چیت کے موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی کے بحران اور پناہ گزینوں کے ممکنہ بہاؤ نے یورپ کو داخلی طور پر کمزور کرنا شروع کر دیا ہے۔
یو این آئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں