27 اپریل 2026 | نئی دہلی/سرینگر:
جموں و کشمیر کل اپنی ترقیاتی سفر میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرنے جا رہا ہے، جب مرکزی وزیر برائے زراعت و کسان فلاح اور دیہی ترقی شیوراج سنگھ چوہان سرینگر کے SKICC میں ایک خصوصی تقریب کے دوران پردھان منتری گرام سڑک یوجنا (PMGSY)-IV، بیچ دوم کا باضابطہ آغاز کریں گے۔ اس تقریب میں جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، نائب وزیر اعلی سسمیت اعلیٰ حکام کی شرکت متوقع ہے، جو اسے ایک اہم عوامی و انتظامی پلیٹ فارم بناتی ہے۔
سال 2000 سے اب تک PMGSY کے تحت جموں و کشمیر میں 3,328 سڑکیں تعمیر کی جا چکی ہیں، جن کی مجموعی لمبائی 19,851 کلومیٹر ہے، جبکہ 257 پل بھی بنائے گئے ہیں۔ اس تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے PMGSY-IV (بیچ دوم) کے تحت 330 نئی سڑکوں کی تعمیر کی جائے گی، جو 1,600 کلومیٹر پر محیط ہوں گی، اور اس منصوبے پر 3,550 کروڑ روپے لاگت آئے گی، جس سے 363 آبادیوں کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔
مرکزی وزیر نے نریندر مودی کی قیادت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف اعلانات تک محدود نہیں بلکہ زمینی سطح پر حقیقی ترقی کو یقینی بنانا ہے، تاکہ سڑکیں اور دیگر بنیادی سہولیات دور دراز دیہات تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انفراسٹرکچر کی ترقی جموں و کشمیر کو قومی ترقی کے دھارے میں مزید مضبوطی سے شامل کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔
تقریب کے دوران DAY-NRLM اسکیم کے تحت 24 ریاستوں اور یونین ٹیریٹریز کے لیے 4,568.23 کروڑ روپے جاری کیے جائیں گے، جس سے خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے اور “لکھپتی دیدی” مہم کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ اس وقت جموں و کشمیر میں تقریباً 96 ہزار سیلف ہیلپ گروپس، 7,500 ویلج آرگنائزیشنز اور 650 کلسٹر لیول فیڈریشنز دیہی معیشت کو مستحکم بنانے میں سرگرم عمل ہیں۔
یہ دورہ صرف سڑکوں کی تعمیر تک محدود نہیں بلکہ دیہی معیشت کی مضبوطی، خواتین کی خودمختاری، روزگار کے مواقع اور اسکل ڈیولپمنٹ جیسے اہم پہلوؤں کا بھی احاطہ کرتا ہے۔ وزارت زراعت کے تحت کسانوں کو مختلف اسکیموں جیسے PM-Kisan، فصل بیمہ یوجنا، ایگریکلچر انفراسٹرکچر فنڈ، ہارٹیکلچر مشن، e-NAM اور مائیکرو ایریگیشن کے ذریعے سہارا فراہم کیا جا رہا ہے۔
مرکزی وزیر کا یہ دورہ جموں و کشمیر کے کسانوں، باغبانوں، دیہی خاندانوں اور خواتین کے لیے اعتماد، شمولیت اور نتیجہ خیز حکمرانی کا واضح پیغام لے کر آ رہا ہے۔
