0

جموں میں شدید گرمی کی لہر — عوام پریشان، انتظامیہ الرٹ

جموں /27 اپریل/عقاب ویب ڈیسک//جموں خطے کے میدانی علاقوں میں ان دنوں شدید گرمی کی لہر نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ گزشتہ پانچ روز سے درجہ حرارت معمول کی حد سے کہیں زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جس کے باعث شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ دوپہر کے اوقات میں گرمی کی حدت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ عام طور پر چہل پہل رہنے والی سڑکیں سنسان ہو جاتی ہیں اور شہر میں ایک عجیب سا سناٹا چھا جاتا ہے۔

محکمہ موسمیات کا الرٹ

محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے جموں، کٹھوعہ، سانبہ، ریاسی اور ادھم پور اضلاع کے لیے باضابطہ “ہیٹ ویو الرٹ”جاری کر دیا ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق سانبہ اور کٹھوعہ میں دن کا درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس کی حد عبور کر چکا ہے، جبکہ کٹھوعہ شہر میں صورتحال مزید سنگین ہے جہاں پارہ 42.5 ڈگری سیلسیس تک جا پہنچا ہے۔

محکمہ موسمیات کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ آئندہ دو دنوں کے دوران ان پانچوں اضلاع کے بعض مقامات پر گرم اور خشک ہوائیں یعنی “لو”چلنے کا قوی امکان ہے۔ انہوں نے عوام کو مزید احتیاط برتنے اور ضروری احتیاطی تدابیر اپنانے کی سخت ہدایت کی ہے۔

جموں میونسپل کارپوریشن کا منفرد اقدام

بڑھتی ہوئی گرمی سے شہریوں کو وقتی راحت فراہم کرنے کے لیے جموں میونسپل کارپوریشن نے ایک قابل ستائش اور منفرد اقدام کیا ہے۔ شہر کی مختلف اہم سڑکوں اور چوراہوں پر اسپرنکلر واٹر ٹینکرز کے ذریعے پانی کا چھڑکاؤ کیا جا رہا ہے۔ اس عمل کو مقامی سطح پر “مصنوعی بارش”کا نام دیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد سڑکوں اور گردونواح کا درجہ حرارت کم کرنا اور شہریوں کو گرمی کی شدت سے کچھ سکون دلانا ہے۔

عوام کے نام ضروری ہدایات

انتظامیہ اور محکمہ موسمیات نے مشترکہ طور پر عوام سے درج ذیل احتیاطی تدابیر اپنانے کی اپیل کی ہے:

– دوپہر کے اوقات (خصوصاً 11 بجے سے 4 بجے تک) میں غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نکلنے سے مکمل گریز کریں
– پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں اور جسم کو ہائیڈریٹ رکھیں
– بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کا خاص خیال رکھیں، کیونکہ یہ طبقات لو اور گرمی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں
– ہلکے اور سوتی کپڑے پہنیں اور دھوپ میں نکلتے وقت سر ڈھانپ کر رکھیں

موسمی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے دنوں میں بارش نہ ہوئی تو گرمی کی یہ لہر مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عوام انتظامیہ کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں اور کسی بھی طبی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر قریبی اسپتال یا صحت مرکز سے رابطہ کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں