0

شمیم احمد شمیم اپنے دور کا فکری، علمی، ادبی اور صحافتی انقلاب تھا

ہماری فکری، علمی، صحافتی اور سیاسی تاریخ کا وہ درخشاں ستارہ جسے ہم فراموش کرکے جہالت کے دور میں پہونچے کا ثبوت فراہم کررہے ہیں

شمیم احمد شمیم اپنے دور کا فکری، علمی، ادبی اور صحافتی انقلاب تھا۔ ان کے فرسودہ روایتوں اور سوچ کیخلا ف آخری دم تک جنگ لڑی
سرینگر 01مئی(منظور انجم)
آٓج سے ٹھیک 46سال پہلے سرینگر پریس کالونی میں شمیم احمد شمیم نے آخری سانس لی۔یہ ایک شخص کی موت نہیں تھی بلکہ برصغیر کی اردو صحافت، اردو ادب، اپنے وقت کی تابناک فکر اور شعور پر گزرا ایک سانحہ تھا۔شمیم احمد شمیم کا جنم شوپیان میں ہوا تھا۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ سرکاری ملازم ہوگئے۔ملازمت کے دوران ہی انہوں نے علی گڑھ جاکر ایل ایل بی کیا اور یہیں سے ان کی فکر ی بلندی کے جوہر سامنے آنے لگے۔واپس آکر انہوں نے محکمہ انفارمیشن کے ماہانہ میگزین تعمیر کی ادارت سنبھالی۔تعمیر کا ہر شمارہ زبان حال سے بول رہا تھا کہ اس نوجوان کے اندر سحر انگیز تحریر کا فن بھی ہے۔ اور اس کے اندر فرسودہ روایتوں کیخلاف بغاوت کا طوفان امڈ رہا تھا۔ ایسے شخص کے لئے سرکاری نوکری کسی زنجیر سے کم نہیں تھی۔ انہوں نے نوکری چھوڑ دی اور ایک ہفت روزہ اخبار ”آئینہ“ شائع کیا۔اس کے پہلے شمارے نے کشمیر کی صحافتی دنیا میں نئی ہلچل پیدا کردی۔چند ہی شماروں کے بعد یہ ہفت روزہ اخبار بینوں کے لئے ایک نشہ بن گیا۔ ہفتہ بھر اس کا بے تابی کے ساتھ انتظار کیا جاتا رہا۔دیکھتے ہی دیکھتے ہندوستان اور پاکستان میں بھی اس اخبار کی مقبولیت حیرت انگیز طور پر بڑھتی رہی اور شمیم احمد شمیم برصغیر کے علمی، ادبی اور صحافتی حلقوں میں مقبول ترین نام بن گیا۔صحا فت سے انہوں نے سیاست کا رخ کیا۔ ایک ایسے دور میں جب کشمیر میں جمہوریت نے نام پر غنڈہ گردی کا دور دورہ تھا۔آزاد امیدواروں کو دن دھاڑے اغوا کیا جاتا تھا۔ شمیم احمد شمیم نے انتہائی بے باکی اور جرات کے ساتھ شوپیان سے اسمبلی کا الیکشن لڑا اور جب ووٹ شماری میں ہیرا پھیری کا خدشہ صاف ظاہر ہونے لگا تو انہوں نے ریذیڈنسی روڈ کے ایک ٹیلی فون بوتھ سے ہندوستان کے الیکشن کمشنر کو فون کرکے صرف ایک جملہ کہہ دیا جس نے الیکشن کمشنر کو ہندوستان بھر کے تمام اہم امور چھوڑ کر کشمیر آنے پر مجبور کیا۔ ان کی موجودگی میں ووٹ شماری ہوئی اور وہ جیت گئے۔اس کے بعدریاستی اسمبلی کا ہال ان کی تقریروں سے اس طرح گونجنے لگا کہ مخالف بھی ان کی بات سننے کے لئے بے تاب ہوا کرتے تھے۔ پھر وہ دور آگیا جب شیخ محمد عبداللہ کی حمایت سے انہوں نے حلقہ انتخاب سرینگر سے پارلیمنٹ کا الیکشن سابق وزیر اعظم بخشی غلام محمد کے خلاف لڑا اور جیت گئے۔پھر پورا ہندوستان ان کی تقریر کا انتظار کیا کرتا تھا۔ خود وزیر اعظم شریمتی اندرا گاندھی جن کے ایمرجنسی کے دوران وہ بدترین مخالف تھے ان کی تقریر سننے کے لئے وقت سے پہلے ایوان میں حاضر رہتی تھی۔ادبی، علمی اور صحافتی حلقو میں ان کی مقبولیت کے ساتھ اب سیاسی حلقو میں بھی ان کی مقبولیت عروج پر پہونچی۔ پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو بھی ان کی ذہانت کے مداح تھے۔ ہندوستان کا وہ کوئی سیاست داں نہیں تھا جو ان کی تحریرو تقریر کے سحر میں مبتلا نہیں تھا۔المیہ یہ ہے کہ اس عظیم شخصیت جس پر کسی بھی قوم کو صدیوں فخر ہوسکتا ہے کشمیر کے سیاسی،علمی، ادبی، ثقافتی اور صحافتی حلقو میں اس کی برسی پر اس کا نام بھی نہیں لیا جارہا ہے۔ کوئی تقریب منعقد نہیں ہوتی ہے۔ ان کے فکر اورشعور کی گہرائیوں کو سمجھنے کی کوئی کوشش نہیں کی جاتی۔صاف ظاہر ہے کہ ہماری سرزمیں کا فکری اور علمی معیار اس حد تک گرچکا ہے کہ ہم صرف ایسے لوگوں کو یاد کرتے ہیں جنہوں نے جہالتوں کو عام کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں کیا۔ یہ ہماری قومی تاریخ کا تقدیر کا وہ سانحہ ہے جس پر حساس لوگ رونے کے سوا کچھ نہیں کرسکتے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں