سرینگر//30اپریل// جموں و کشمیر پانی کے معیار کے قومی اشاریے میں ملک کے بدترین کارکردگی والے چھ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں شامل ہو گیا ہے، جہاں اس کی درجہ بندی 36 میں سے 31ویں نمبر پر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال ایک سنگین ماحولیاتی بحران کی نشاندہی کرتی ہے، خاص طور پر اس خطے کے لیے جو ہمالیائی آبی وسائل سے مالا مال سمجھا جاتا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر کو پانی کے معیار کے اشاریے میں صرف 62 فیصد اسکور حاصل ہوا، جو واضح طور پر گرتے ہوئے ماحولیاتی معیار کی عکاسی کرتا ہے۔ اس فہرست میں لداخ،دادر اینڈ نگر حویلی،دمن و دیو،مہاراشٹرا،اتر پردیش اور دہلی جیسے خطے بھی نچلے درجوں میں شامل ہیں۔یو این ایس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ درجہ بندی اس بات کا اشارہ ہے کہ مسئلہ صرف صاف پانی کی فراہمی تک محدود نہیں رہا بلکہ خود پانی کے بنیادی ذرائع — دریا، جھیلیں اور چشمے — تیزی سے آلودگی کا شکار ہو رہے ہیں۔سینٹرل پولیوشن کںترول بورڈ کے اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں کم از کم آٹھ آبی ذخائر کو آلودہ قرار دیا گیا ہے، جن میں دریائے جہلم کے کئی حصے شامل ہیں۔ سری نگر کے علاقے چونٹ کول میں بایولوجیکل آکسیجن ڈیمانڈ 11.2 ملی گرام فی لیٹر ریکارڈ کی گئی، جبکہ جہلم کے ایک حصے میں یہ شرح 7.8 ملی گرام فی لیٹر ہے، جو شدید آلودگی کی علامت ہے۔ماہرین کے مطابق نہانے کے قابل پانی کے لیے ’بی اﺅ ڈی‘کی حد 3 ملی گرام فی لیٹر سے کم ہونی چاہیے، جبکہ پینے کے پانی کے لیے یہ 2 ملی گرام فی لیٹر سے بھی کم ہونی چاہیے۔رپورٹ میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ سیوریج کا مسئلہ جموں و کشمیر میں پانی کی آلودگی کی سب سے بڑی وجہ بن چکا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف سری نگر میں روزانہ 163 ملین لیٹر سیوریج پیدا ہوتا ہے، جبکہ اس کی صفائی کی صلاحیت محض 60 ملین لیٹر ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ تقریباً 63 فیصد گندا پانی بغیر صفائی کے براہ راست آبی ذخائر میں شامل ہو جاتا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 103 ملین لیٹر سیوریج بغیر کسی ٹریٹمنٹ کے دریائے جہلم اور ڈل میں داخل ہو رہا ہے، جو نہ صرف آبی حیات بلکہ انسانی صحت کے لیے بھی خطرناک ہے۔حکام نے اعتراف کیا ہے کہ جنوبی کشمیر کے بعض علاقوں میں نالوں کا گندا پانی براہ راست ان ندی نالوں میں شامل ہو رہا ہے جو بعد میں جہلم میں جا گرتے ہیں، جس سے پینے کے پانی کے بنیادی ذرائع بھی متاثر ہو رہے ہیں۔اگرچہ انتظامیہ نے پانی کے معیار کی نگرانی میں اضافہ کیا ہے، تاہم زمینی حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ 2024-25کے دوران 6,122 دیہات میں تقریباً 2.66 لاکھ پانی کے نمونے جانچے گئے، جن میں 78 آلودہ پائے گئے۔ 2025-26میں یہ تعداد بڑھ کر 3.07 لاکھ ہو گئی ہے۔جموں و کشمیر میں اس وقت 98 واٹر ٹیسٹنگ لیبارٹریز کام کر رہی ہیں، جن میں 2 یو ٹی سطح، 20 ضلع سطح اور 76 سب ڈویڑنل سطح کی لیبارٹریز شامل ہیں۔ماہرین کے مطابق وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ کے باوجود پانی کے معیار میں بہتری نہ آنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ صرف نگرانی کا نہیں بلکہ بنیادی ڈھانچے، سیوریج ٹریٹمنٹ اور ماحولیاتی پالیسیوں میں سنجیدہ اصلاحات کی ضرورت ہے۔یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ حکومت فوری اور مو ثر اقدامات کرے تاکہ جموں و کشمیر کے قیمتی آبی وسائل کو بچایا جا سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ بنایا جا سکے۔
0
