سرینگر، 16 مئی : جاری نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان کے تحت منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف مسلسل کارروائی کرتے ہوئے سرینگر پولیس نے نارکوٹک ڈرگز اینڈ سائیکوٹروپک سبسٹینسز ایکٹ کی دفعات کے تحت تین بدنام منشیات فروشوں کی تین غیر منقولہ جائیدادیں اور ایک گاڑی ضبط کر لی ہے۔
پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ کارروائی پولیس اسٹیشن خانیار نے این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ 68-F کے تحت انجام دی۔ پہلے ملزم ناظر احمد میر عرف ناظر لشکری ولد عبدالوہاب میر ساکن کولی پورہ خانیار کی کولی پورہ سرینگر میں واقع 4.5 مرلہ اراضی پر تعمیر شدہ دو منزلہ رہائشی مکان بشمول آٹھ دکانیں ضبط کی گئی ہیں جن کی تخمینہ قیمت تقریباً 3.2 کروڑ روپے ہے۔ یہ کارروائی پولیس اسٹیشن خانیار کے مقدمہ نمبر 08/2020 بموجب دفعہ 8/20 این ڈی پی ایس ایکٹ کے سلسلے میں کی گئی۔
دوسرے ملزم گلزار احمد میر ولد عبدالرحمن میر ساکن باغی روپ سنگھ مسکین باغ خانیار کی رجسٹریشن نمبر JK01AW-8898 کی اسکارپیو گاڑی جس کی قیمت تقریباً بیس لاکھ روپے ہے اور ساتھ ہی سات مرلہ اراضی اور اس پر تعمیر شدہ عارضی ڈھانچے پر مشتمل جائیداد جس کی مجموعی تخمینہ قیمت تقریباً 1.8 کروڑ روپے ہے، ضبط کی گئی۔ یہ کارروائی مقدمہ نمبر 08/2026 بموجب دفعہ 8/21/29 این ڈی پی ایس ایکٹ کے سلسلے میں کی گئی۔
تیسرے ملزم زاہد منظور راتھر ولد منظور احمد راتھر ساکن لون محلہ نوپورہ خانیار کی نو مرلہ اراضی پر تعمیر شدہ یک منزلہ رہائشی مکان ضبط کیا گیا جس کی تخمینہ قیمت تقریباً اسی لاکھ روپے ہے۔ یہ کارروائی مقدمہ نمبر 96/2020 بموجب دفعہ 8/20 این ڈی پی ایس ایکٹ کے سلسلے میں کی گئی۔
ضبط شدہ تمام جائیدادیں منشیات کی اسمگلنگ سے حاصل کردہ غیر قانونی آمدنی سے خریدی گئی دولت قرار دی گئی ہیں۔ سرینگر پولیس نے کہا ہے کہ وہ معاشرے سے منشیات کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان کے تحت منشیات فروشوں اور ان کی غیر قانونی جائیدادوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔
