سرینگر//16مئی/ بھارتی فوج کے سربراہ اوپندرا دیویدی نے پاکستان کو سخت اور غیر مبہم پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ دہشت گردوں کو پناہ دینے اور بھارت کے خلاف کارروائیوں کی حمایت جاری رکھتا ہے تو اسے فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ ”دنیا کے نقشے پر ایک ریاست“ کے طور پر باقی رہنا چاہتا ہے یا ”تاریخ کا حصہ“ بننا چاہتا ہے۔جنرل اوپیندر دویدی نے یہ سخت بیان نئی دہلی کے مانیک شا سینٹر میں منعقدہ ”سینا سمواد“ پروگرام کے دوران دیا، جہاں انہوں نے نوجوانوں، طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد کے ساتھ بات چیت کی۔ پروگرام کا اہتمام ”یونیفارم اَن ویلڈ“ کی جانب سے کیا گیا تھا۔یو این ایس کے مطابق تقریب کے دوران جب آرمی چیف سے سوال کیا گیا کہ اگر گزشتہ سال ”آپریشن سندور“ جیسے حالات دوبارہ پیدا ہوئے تو بھارتی فوج کا ردعمل کیا ہوگا، تو انہوں نے انتہائی سخت لہجے میں کہا کہ پاکستان کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ دہشت گردی کی پالیسی جاری رکھنا چاہتا ہے یا خطے میں امن اور استحکام کا راستہ اختیار کرے گا۔انہوں نے کہا، ”میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اگر پاکستان دہشت گردوں کو پناہ دیتا رہا اور بھارت کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں تو پھر اسے فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ جغرافیہ کا حصہ رہنا چاہتا ہے یا تاریخ کا۔“اگرچہ آرمی چیف کا بیان مختصر تھا، تاہم سیاسی اور عسکری حلقوں میں اسے پاکستان کیلئے ایک واضح اور غیر معمولی سخت انتباہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق جنرل دویدی کے الفاظ اس بات کا اشارہ ہیں کہ بھارت مستقبل میں دہشت گرد حملوں کے خلاف مزید جارحانہ اور فیصلہ کن حکمت عملی اختیار کر سکتا ہے۔جنرل دویدی کے یہ ریمارکس ایک ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب بھارت نے حال ہی میں ”آپریشن سندور“ کی پہلی برسی منائی۔ یہ فوجی کارروائی گزشتہ برس 7 مئی کو پہلگام میں ہوئے مہلک دہشت گرد حملے کے بعد شروع کی گئی تھی، جس میں متعدد شہری اور سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کے بعد بھارتی افواج نے پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موجود مبینہ دہشت گردی کے ٹھکانوں پر ”پریسیڑن اسٹرائیکس“ کرتے ہوئے متعدد اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔ بھارت کا دعویٰ تھا کہ ان کارروائیوں کا مقصد دہشت گرد نیٹ ورکس اور لانچ پیڈز کو تباہ کرنا تھا جہاں سے بھارت کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ بھارتی کارروائیوں کے بعد پاکستان کی جانب سے بھی جوابی عسکری اقدامات کئے گئے، جس کے نتیجے میں دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان تقریباً 88 گھنٹوں تک شدید کشیدگی برقرار رہی۔ اس دوران سرحدی علاقوں میں گولہ باری، فضائی نقل و حرکت اور فوجی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ بعد ازاں 10 مئی کی شام دونوں ممالک کے درمیان ایک مفاہمت طے پانے کے بعد صورتحال میں بہتری آئی اور کشیدگی کم ہوئی۔بھارتی فوجی اور سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ ”آپریشن سندور“ نے دہشت گردی کے خلاف بھارت کی نئی عسکری پالیسی کو واضح کیا، جس کے تحت سرحد پار دہشت گردی کا جواب فوری اور سخت کارروائی کی صورت میں دیا جائے گا۔ آرمی چیف نے اپنے خطاب میں براہ راست یہ بھی اشارہ دیا کہ بھارت دہشت گردی کے معاملے پر کسی قسم کی نرمی یا سمجھوتے کیلئے تیار نہیں۔ ان کے مطابق بھارت کی سلامتی، خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔مبصرین کے مطابق جنرل دویدی کا یہ بیان صرف ایک عسکری ردعمل نہیں بلکہ ایک سفارتی اور تزویراتی پیغام بھی ہے، جو خطے میں بدلتی سلامتی صورتحال، سرحد پار دہشت گردی اور بھارت کی دفاعی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔واضح رہے کہ جنرل اوپیندر دویدی جون 2024 میں بھارتی فوج کے سربراہ مقرر ہوئے تھے اور وہ جموں و کشمیر سمیت حساس سرحدی علاقوں میں وسیع عسکری تجربہ رکھتے ہیں۔ ان کے حالیہ بیانات کو بھارتی فوج کی سخت گیر سلامتی پالیسی کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔یو این ایس کے مطابقجنرل اوپیندر دیویدی نے نوجوانوں کے ساتھ ایک غیر رسمی نشست کے دوران اپنی ذاتی زندگی کے ایک منفرد خواب کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مستقبل میں ”آہستہ زندگی“ نامی ایک کیفے قائم کرنا چاہتے ہیں، جہاں لوگ مصروف اور تیز رفتار زندگی سے کچھ وقت نکال کر سکون حاصل کر سکیں۔جنرل اوپیندر دویدی نے کہا کہ یہ کیفے ان کی آبائی ریاست مدھیہ پردیش میں قائم کیا جائے گا اور اس کا مقصد صرف کافی پیش کرنا نہیں بلکہ لوگوں کیلئے ایک ایسا ماحول فراہم کرنا ہوگا جہاں وہ گفتگو، مطالعہ، مشاورت اور ذہنی سکون حاصل کر سکیں۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے یہ خیالات دہلی کے مانیک شا سینٹر میں ”سینا سمواد“ پروگرام کے دوران ظاہر کئے، جس کا اہتمام ”یونیفارم اَن ویلڈ“ کی جانب سے کیا گیا تھا۔ اس موقع پر مختلف اسکولوں کے طلبہ نے بھی شرکت کی۔ آرمی چیف نے نوجوانوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہیں جسمانی طور فٹ رہنے، سخت محنت کرنے، قائدانہ صلاحیتیں پیدا کرنے اور سوشل میڈیا پر ”ریلز“ دیکھنے کے بجائے جسمانی سرگرمیوں کو اپنانے کا مشورہ دیا۔انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی کے دور سے گزر رہی ہے، ایسے میں نوجوانوں کیلئے نظم و ضبط، برداشت اور توجہ برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ جنرل دویدی نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ نئی نسل میں صبر اور توجہ کا دورانیہ کم ہوتا جا رہا ہے۔آرمی چیف نے کہا کہ فوجی زندگی کے دوران انہیں احساس ہوا کہ معاشرے نے انہیں بہت کچھ دیا ہے اور اب وقت ہے کہ وہ بھی معاشرے کو کچھ واپس دیں۔ انہوں نے کہا کہ فوجی افسران کے پاس تجربات، کہانیاں اور سبق موجود ہوتے ہیں، جنہیں نئی نسل اور عام شہریوں تک منتقل کرنا ضروری ہے۔انہوں نے بتایا کہ ”آہستہ زندگی“ کیفے میں ایک اچھی لائبریری بھی قائم کی جائے گی تاکہ لوگ وہاں آ کر مطالعہ کر سکیں، ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کریں اور اجتماعی سوچ کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں۔ ان کے مطابق وہاں ”فری کنسلٹیشن“ یعنی مفت مشاورتی خدمات بھی فراہم کی جائیں گی۔جنرل دویدی نے کہا کہ آج کا انسان اتنی تیزی سے زندگی گزار رہا ہے کہ وہ خود کو ذہنی طور پر تھکا رہا ہے۔ ان کے مطابق لوگ رک کر سوچنے، فیصلے کرنے اور اپنی ترجیحات متعین کرنے کیلئے وقت نہیں نکالتے، جس کے باعث ذہنی دباو ¿ میں اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر لوگ صرف انٹرنیٹ اور آن لائن ذرائع تک محدود ہو جائیں اور سماجی روابط ختم کر دیں تو وہ حقیقی زندگی کی سمجھ اور توازن کھو سکتے ہیں۔اطلاعات کے مطابق یہ کیفے بھوپال میں قائم کئے جانے کا منصوبہ ہے۔ جنرل اوپیندر دویدی مدھیہ پردیش کے سینک اسکول ریوا کے سابق طالب علم ہیں اور انہیں 15 دسمبر 1984 کو بھارتی فوج کی جموں و کشمیر رائفلز رجمنٹ میں کمیشن ملا تھا۔ جون 2024 میں انہیں بھارتی فوج کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔
0
