اسپتالوں اور کلینکوں میں مریضوں کا رش، او پی ڈی میں 40 فیصد اضافہ
روسی سفیدے نہیں بلکہ گھاس،پھولوں اور درختوں سے خارج بارئیک ذرات اصل خطرہ
سرینگر//15مئی/ وادی کشمیر میں بہار کا موسم جہاں قدرتی حسن، رنگ برنگے پھولوں اور خوشبودار فضاو ¿ں کے باعث لوگوں کو مسحور کرتا ہے، وہیں یہی موسم ہزاروں افراد کیلئے الرجی، سانس کی بیماریوں اور دیگر طبی مسائل کا سبب بھی بن رہا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق مارچ سے مئی کے دوران وادی بھر کے اسپتالوں اور کلینکوں میں الرجی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عرصے کے دوران او پی ڈی میں الرجی اور سانس کی بیماریوں سے متعلق کیسوں میں 30 سے 40 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اندازوں کے مطابق وادی کی تقریباً ایک تہائی آبادی کسی نہ کسی شکل میں موسمی الرجی سے متاثر ہوتی ہے، جبکہ بچے، بزرگ اور پہلے سے دمہ یا سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد زیادہ خطرے سے دوچار رہتے ہیں۔ماہرین کے مطابق عام طور پر لوگ فضا میں اڑنے والے سفید روئیں، جنہیں مقامی زبان میں ”پھمب“ یا ”روسی برف“ کہا جاتا ہے، کو الرجی کی اصل وجہ سمجھتے ہیں، تاہم طبی تحقیق اس تصور کو درست نہیں مانتی۔ صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں شائع ایک تحقیقی مطالعے کے مطابق روسی سفیدوں کے مادہ درختوں سے نکلنے والے سفید ریشے بذات خود الرجی پیدا نہیں کرتے۔ تحقیق، جسے ڈاکٹر روہی رسول اور ڈاکٹر تبسم شافی نے انجام دیا، میں بتایا گیا ہے کہ یہ روئیں دراصل بیجوں کے ساتھ موجود باریک ریشے ہوتے ہیں جو جسم میں براہ راست الرجک ردعمل پیدا نہیں کرتے، البتہ یہ ہوا میں موجود دیگر الرجی پیدا کرنے والے عناصر کو اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق کشمیر میں الرجی کی سب سے بڑی وجہ گھاس کا پولن ہے، جو تقریباً 90 فیصد کیسوں میں ذمہ دار پایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کیکر کے درختوں کا پولن تقریباً 70 فیصد جبکہ مقامی جڑی بوٹی ”سوئی“ 60 فیصد کیسوں میں شامل پائی گئی ہے۔ دوسری جانب روسی سفیدوں کا پولن صرف 18 سے 20 فیصد کیسوں میں اثر انداز ہوتا ہے اور وہ بھی عموماً دیگر پولن کے ساتھ مل کر۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پولن ذرات نہایت باریک ہوتے ہیں اور ان کا سائز 5 سے 100 مائکرون تک ہوسکتا ہے، اسی لئے یہ آنکھ سے نظر نہیں آتے۔ جب یہ ذرات سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہوتے ہیں تو مدافعتی نظام متحرک ہوجاتا ہے، جس کے نتیجے میں ہسٹامین خارج ہوتی ہے اور ناک، آنکھوں اور سانس کی نالیوں میں سوزش پیدا ہوتی ہے۔یو این ایس کے مطابق اس صورتحال کے باعث متاثرہ افراد میں ناک بہنا، آنکھوں میں خارش، مسلسل چھینکیں، گلے میں جلن اور سانس لینے میں دشواری جیسی علامات پیدا ہوتی ہیں، جبکہ بعض مریضوں میں دمہ اور دائمی سائنوسائٹس کی شکایات بھی بڑھ جاتی ہیں۔ماہرین ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ روسی سفیدوں کو بلاجواز ذمہ دار ٹھہرا کر بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی ماحولیاتی توازن کیلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق درخت فضائی آلودگی کم کرنے، درجہ حرارت متوازن رکھنے اور ماحول کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں کو مشورہ دیا ہے کہ وادی میں پولن مانیٹرنگ نظام قائم کیا جائے، عوامی آگاہی مہم چلائی جائے اور شہری منصوبہ بندی سائنسی بنیادوں پر انجام دی جائے تاکہ الرجی کے مسائل پر قابو پایا جاسکے۔دوسری جانب سری نگر سمیت وادی کے مختلف اضلاع کے اسپتالوں میں اس موسم کے دوران مریضوں کا دباو ¿ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق اینٹی ہسٹامین ادویات، ناک کے اسپرے اور انہیلرز کے ذریعے مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے، جبکہ شدید متاثرہ افراد کو بروقت الرجی ٹیسٹ اور خصوصی علاج کرانے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کشمیر کی قدرتی خوبصورتی کو برقرار رکھتے ہوئے سائنسی بنیادوں پر حکمت عملی اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ بہار کا موسم عوام کیلئے خوشی اور سکون کا سبب بنے، نہ کہ بیماریوں اور مشکلات کا۔
