سرینگر: جموں و کشمیر میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی اور جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کا عمل غالباً فروری 2027 کے بعد ہی شروع ہوگا، کیونکہ الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے عندیہ دیا ہے کہ یہ عمل مرکز کے زیر انتظام علاقے میں مردم شماری کے دوسرے مرحلے کی تکمیل کے بعد ہی انجام دیا جائے گا۔
یہ عندیہ اُس وقت سامنے آیا جب ای سی آئی نے ملک گیر ایس آئی آر (SIR) مہم کے تیسرے مرحلے کا شیڈول جاری کیا، جس میں 16 ریاستیں اور تین مرکز کے زیر انتظام علاقے شامل ہیں۔ تاہم جموں و کشمیر، لداخ اور ہماچل پردیش کو موجودہ مرحلے میں شامل نہیں کیا گیا۔
جاری کی گئی نوٹیفکیشن میں ای سی آئی نے کہا ہے کہ ان تینوں خطوں کے لیے شیڈول بعد میں جاری کیا جائے گا، جس میں مردم شماری کے دوسرے مرحلے کی تکمیل اور برف پوش و بالائی علاقوں کے موسمی حالات کو مدنظر رکھا جائے گا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق: “ان تین ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں مردم شماری کے دوسرے مرحلے کی تکمیل اور بالائی و برف پوش علاقوں کے موسم کو دیکھتے ہوئے ایس آئی آر کا شیڈول بعد میں جاری کیا جائے گا۔”
جموں و کشمیر کے چیف الیکٹورل آفیسر، سنجیو ورما، نے کہا کہ مردم شماری کا عمل مکمل ہونے کے بعد جموں و کشمیر کو نظرثانی کے اگلے مرحلے میں شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا: “ای سی آئی نے کل تیسرے مرحلے کا شیڈول جاری کیا ہے۔ جموں و کشمیر، لداخ اور ہماچل پردیش کو مردم شماری مکمل ہونے کے بعد اگلے مرحلے میں شامل کیا جائے گا۔ ای سی آئی کی جانب سے شیڈول جاری ہوتے ہی تاریخوں کا بھی اعلان کیا جائے گا۔”
14 مئی کو جاری تازہ نوٹیفکیشن کے بعد اب ایس آئی آر مہم ملک بھر میں تیسرے مرحلے میں داخل ہوگی، تاہم جموں و کشمیر، لداخ اور ہماچل پردیش اس سے باہر رہیں گے۔ جموں و کشمیر میں مردم شماری 2027 کا عمل 17 مئی 2026 سے شروع ہوگا اور اسے دو مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا۔
پہلے مرحلے میں گھروں کی فہرست سازی اور ہاؤسنگ مردم شماری شامل ہوگی۔ اس کے تحت 17 مئی سے 31 مئی تک سیلف اینیومریشن ہوگی، جبکہ یکم جون سے 30 جون 2026 تک گھر گھر جا کر سروے کیا جائے گا۔
دوسرے مرحلے میں آبادی کی گنتی اور ذات پر مبنی مردم شماری شامل ہوگی، جو برف پوش علاقوں میں ستمبر 2026 سے جبکہ غیر برف پوش علاقوں میں فروری 2027 سے شروع ہوگی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر میں تاخیر سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات کی تیاریوں پر کوئی خاص اثر پڑنے کی توقع نہیں ہے۔
حکام کے مطابق ریاستی الیکشن کمیشن (ایس ای سی) اس بات پر آزادانہ فیصلہ لے سکتا ہے کہ پنچایت انتخابات سے پہلے ایس آئی آر کا انتظار کیا جائے یا نہیں۔ ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا: “یہ ایک الگ عمل ہے۔ دونوں کے درمیان کوئی لازمی تعلق نہیں کیونکہ نظرثانی شدہ ووٹر فہرستیں پہلے ہی تیار ہیں۔ البتہ ایس آئی آر سے جانچ اور تصدیق میں مدد مل سکتی تھی۔”
حکام نے مزید بتایا کہ پنچایت انتخابات کے لیے ووٹر فہرستوں کی تازہ کاری کا عمل تقریباً مکمل ہوچکا ہے اور نئی فہرستوں میں ووٹروں کی تعداد میں قریب تین فیصد اضافہ درج کیا گیا ہے۔ ایس ای سی کے 20 مئی 2026 کو حتمی ووٹر فہرست جاری کرنے کی توقع ہے۔
ایس ای سی نے جموں و کشمیر حکومت کو دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کمیشن کی سفارشات پر بھی فیصلہ لینے کے لیے خط لکھا ہے، جو ابھی زیر التوا ہیں۔ حکام کے مطابق پنچایت اور بلدیاتی اداروں کے انتخابات حکومت کی جانب سے او بی سی ریزرویشن کے معاملے پر فیصلہ ہونے کے بعد ہی متوقع ہیں۔
ای سی آئی نے کہا کہ ایس آئی آر کا عمل ایک مشترکہ اور عوامی شمولیت پر مبنی مہم ہے، جس میں ووٹرز، سیاسی جماعتیں اور انتخابی عملہ شامل ہوگا۔ کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ شفافیت اور عوامی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے ہر پولنگ اسٹیشن پر بوتھ لیول ایجنٹس تعینات کیے جائیں
