سرینگر//16مئی/ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے سرینگر میں سکم اسٹیٹ ہ ±ڈ ڈے کی مناسبت سے منعقدہ ایک پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سکم امن، روحانیت، قدرتی حسن اور نامیاتی کاشتکاری کی ایک عالمی مثال بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے درمیان ثقافتی اور جذباتی رشتہ قومی اتحاد اور بھائی چارے کی مضبوط بنیاد ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر اور سکم کے درمیان باغبانی و ثقافتی تعاون کو “ایک بھارت شریشٹھ بھارت” کے وڑن کی عملی تعبیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اشتراک سے نوجوانوں، کسانوں اور محققین کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوئے ہیں۔یو این ایس کے مطابق موں و کشمیر لوک بھون میں آج سکم کے اسٹیٹ ہ ±ڈ ڈے کی مناسبت سے ایک پروقار اور رنگا رنگ تقریب منعقد ہوئی جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، طلبہ، سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں، سرکاری افسران اور جموں و کشمیر میں مقیم سکم کے شہریوں نے شرکت کی۔ تقریب کا مقصد قومی یکجہتی، ثقافتی تنوع اور مختلف ریاستوں کے درمیان بھائی چارے کے جذبے کو فروغ دینا تھا۔یو این ایس کے مطابق تقریب کے دوران سکم کی ثقافت، روایات، زبان، موسیقی اور قدرتی خوبصورتی کو اجاگر کیا گیا جبکہ شرکا نے ہندوستان کے مختلف خطوں کے درمیان باہمی احترام اور اتحاد کے جذبے کو سراہا۔ اس موقع پر سکم کی تہذیب و ثقافت سے متعلق خصوصی پروگرام بھی پیش کیے گئے جنہیں حاضرین نے بے حد پسند کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہانے سکم کے عوام کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ سکم صرف ایک خوبصورت ریاست ہی نہیں بلکہ روحانیت، امن، ہم آہنگی اور پائیدار ترقی کی ایک روشن مثال بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرو پدم سمبھوا کی مقدس سرزمین سکم اپنی ثقافتی دولت، قدرتی حسن اور نامیاتی کاشتکاری کی وجہ سے دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سکم کی لسانی اور ثقافتی تنوع ہندوستان کی “وحدت میں کثرت” کی حقیقی تصویر پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف زبانوں، روایات اور ثقافتوں کے باوجود ہندوستانی عوام ایک مضبوط قومی رشتے میں بندھے ہوئے ہیں اور یہی جذبہ ملک کی اصل طاقت ہے۔منوج سنہا نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سکم آج ترقی، ماحولیات کے تحفظ، سیاحت اور زرعی اصلاحات کے میدان میں نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکم نے نامیاتی کاشتکاری کے شعبے میں عالمی سطح پر اپنی ایک الگ شناخت قائم کی ہے اور پائیدار ترقی کے حوالے سے دیگر ریاستوں کے لیے ایک ماڈل بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے درمیان جذباتی تعلقات صرف آئینی یا انتظامی نہیں بلکہ تہذیبی، ثقافتی اور انسانی اقدار پر مبنی ہیں۔ ان کے مطابق “ایک بھارت شریشٹھ بھارت” کا نظریہ ملک کے مختلف خطوں کو ایک دوسرے کے قریب لا رہا ہے اور قومی اتحاد کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے جولائی 2022 میں جموں و کشمیر اور سکم کے درمیان ہوئے تاریخی باغبانی معاہدے کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس اشتراک نے دونوں خطوں کے نوجوانوں، کسانوں، زرعی ماہرین اور محققین کے درمیان نئے روابط قائم کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں علم، تجربات اور جدید زرعی تکنیکوں کے تبادلے کو فروغ ملا ہے، جس سے دونوں خطوں کے باغبانی شعبے کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔انہوں نے اس اشتراک کو “ایک بھارت شریشٹھ بھارت” کی کامیاب اور عملی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف مختلف خطوں کے درمیان فاصلے کم کرتے ہیں بلکہ قومی ترقی کے مشترکہ خواب کو بھی تقویت دیتے ہیں۔منوج سنہا نے کہا کہ سکم اپنی قدرتی خوبصورتی، بلند پہاڑوں، سرسبز وادیوں، جھیلوں اور پائیدار ترقی کے منصوبوں کے باعث سیاحت کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ سکم مستقبل میں بھی ترقی، خوشحالی اور ماحول دوست پالیسیوں کے میدان میں نئی کامیابیاں حاصل کرتا رہے گا۔تقریب کے اختتام پر لیفٹیننٹ گورنر نے سکم کے عوام کی خوشحالی، امن اور ترقی کے لیے نیک تمناو ¿ں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی اصل طاقت اس کی ثقافتی رنگا رنگی، اتحاد اور بھائی چارے کے جذبے میں پوشیدہ ہے، اور یہی جذبہ ملک کو ایک مضبوط اور ترقی یافتہ قوم بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
0
