0

ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد 10 فیصد گلوبل ٹیرف نافذ کیا

واشنگٹن، 21 فروری (یو این آئی) صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ کےسپریم کورٹ کی جانب سے ان کے وسیع ٹیرف پروگرام کے بڑے حصے کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد ردِعمل کے طورپر ایک نیا حکم نامہ جاری کیا ہے، جس کے تحت دنیا بھر سے امریکہ آنے والی درآمدات پر 10 فیصد عالمی ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی “ایڈجسٹمنٹ کا عمل شروع ہو چکا ہے۔”

امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کے سابقہ وسیع ٹیرف پروگرام کو یہ کہتے ہوئے منسوخ کر دیا تھا کہ بین الاقوامی ہنگامی معاشی اختیارات ایکٹ(آئی ای ای پی اے) صدر کو اس نوعیت کے وسیع درآمدی محصولات عائد کرنے کا اختیار نہیں دیتا اور یہ اختیار کانگریس کے پاس ہے۔

نئے ٹیرف ٹریڈ ایکٹ 1974 کی دفعہ 122 کے تحت نافذ کیے گئے ہیں اور یہ ’’تقریباً فوری اثر سے ‘‘ نافذ ہوں گے۔ یہ زیادہ سے زیادہ 150 دن تک نافذ العمل رہیں گے۔ اس اقدام کو صدر ٹرمپ کے تحفظاتی تجارتی ایجنڈے کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ادائیگیوں کے توازن کے خسارے اور مبینہ غیر منصفانہ تجارتی طریقوں سے نمٹنا بتایا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو’’انتہائی مایوس کن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے سابقہ ٹیرف کے خلاف ووٹ دینے والے ججوں کو’’شرم آنی چاہیے۔‘‘ تین ۔چھ کی اکثریت سے دیے گئے اس فیصلے کے نتیجے میں آئی ای ای پی اے کے تحت عائد کیے گئے اربوں ڈالر کے ٹیرف غیر مؤثر ہو گئے ہیں، جس سے حکومت کو تقریباً 130 سے 175 ارب ڈالر تک کی رقم واپس کرنا پڑ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دفعہ 122 کے تحت 10 فیصد ٹیرف “ایڈجسٹمنٹ کے عمل کی ابتدا” ہے اور عدالت کی جانب سے منسوخ کیے گئے ٹیرف کی جگہ “متبادل اقدامات” اختیار کیے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قومی سلامتی سے متعلق ٹیرف (دفعہ 232) اور تجارتی تدارکی اقدامات (دفعہ 301) بدستور نافذ رہیں گے۔ انتظامیہ نے دفعہ 301 کے تحت مبینہ “غیر منصفانہ تجارتی طریقوں” کے حوالے سے نئی تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں، جس کے نتیجے میں مزید محصولات عائد کیے جا سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سابقہ ٹیرف اقدامات کو امریکی آمدنی میں اضافے اور شیئر بازار کو سہارا دینے والا قرار دیا اور الزام لگایا کہ عدالت نے غیر ملکی مفادات کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ ہندوستان سمیت مختلف ممالک کے ساتھ حالیہ دوطرفہ معاہدے اور باہمی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ نئی قانونی حکمتِ عملی کے تحت جاری رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں