نئی دہلی، 20 فروری (یو این آئی) غزہ میں اس سال رمضان ایسے وقت میں آیا ہے جب خطہ ایک نازک جنگ بندی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ دو سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی خونریز جنگ نے جہاں ہزاروں زندگیاں نگل لیں، وہیں بے شمار خاندانوں کو بے گھر اور شہر کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔ ایسے حالات میں مقدس مہینے کا استقبال بظاہر تو ہوا، مگر دلوں میں وہی روایتی جوش و خروش نظر نہیں آتا جو کبھی غزہ کی پہچان تھا۔
اقوامِ متحدہ کے دفتر رائے کوآرڈینیشن آف ہیومینٹیرین افیئرز نے رپورٹ کیا ہے کہ اندازوں کے مطابق، کم از کم دو تہائی آبادی (21 لاکھ میں سے تقریباً 14 لاکھ افراد) ان تقریباً ایک ہزار مقامات پر رہنے پر مجبور ہیں جہاں انہیں بے گھر ہو کر منتقل ہونا پڑا۔ یہ افراد گنجان آباد جگہوں اور ایسے خیموں میں زندگی گزار رہے ہیں جو نہ تو مناسب رازداری فراہم کرتے ہیں اور نہ ہی خاطر خواہ تحفظ۔
غزہ شہر کی رہائشی فدا عیاد کے الفاظ اس اجتماعی کیفیت کی عکاسی کرتے ہیں جو اس وقت بیشتر فلسطینیوں کے دلوں میں موجزن ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اپنے پیاروں کو کھونے کے بعد خوشی کا تصور بھی ممکن نہیں رہا۔ اگرچہ لوگ معمولاتِ زندگی کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر دلوں میں ایک خلا سا ہے۔ رمضان کا روحانی ماحول جس کا انتظار سال بھر کیا جاتا ہے، اس بار کئی لوگوں کو محسوس ہی نہیں ہو پا رہا۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق حالیہ جنگ میں 72 ہزار سے زائد فلسطینی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار صرف ہلاکتوں کی کہانی بیان نہیں کرتے بلکہ ہر عدد کے پیچھے ایک خاندان، ایک خواب اور ایک زندگی کی داستان پوشیدہ ہے۔ وسیع پیمانے پر تباہی کے باعث بیشتر رہائشی علاقے کھنڈرات میں تبدیل ہو چکے ہیں اور ہزاروں خاندان عارضی کیمپوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔
رمضان کی آمد پر غزہ کے بازاروں میں کچھ چہل پہل ضرور دیکھی گئی۔ لوگ افطار اور سحر کے لیے بنیادی اشیائے خور و نوش خریدنے نکلے مگر معاشی حالات نے خوشیوں کو پھیکا کر دیا ہے۔
ولید زقزوق جو غزہ شہر کے رہائشی ہیں انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کے پاس نقد رقم نہیں ہے اور روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ ان کے بقول، رمضان میں اخراجات بڑھ جاتے ہیں اور ایسے میں مالی وسائل کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ وہ تاجروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ قیمتوں میں نرمی برتیں اور لوگوں کی مشکلات کا خیال رکھیں۔
جنگ سے پہلے غزہ کے بہت سے خاندان محدود وسائل کے باوجود باوقار زندگی گزار رہے تھے۔ مگر مسلسل بمباری، ناکہ بندی اور معاشی تباہی نے حالات یکسر بدل دیے ہیں۔ روزگار کے ذرائع ختم ہونے سے غربت میں اضافہ ہوا ہے اور کئی خاندان امداد کے محتاج ہو گئے ہیں۔ اگرچہ 10 اکتوبر کو امریکی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے نے بڑے پیمانے کی لڑائی کو روک دیا لیکن زمینی حقیقت اب بھی تشویشناک ہے۔ شدید جھڑپیں تھم چکی ہیں، تاہم تقریباً روزانہ کی بنیاد پر فضائی حملوں اور فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں۔
غزہ کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق جنگ بندی کے بعد بھی 600 سے زائد فلسطینی مختلف واقعات میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ فوج کے زیر قبضہ علاقوں کے قریب رہنے والے افراد مسلسل خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اس سال رمضان سرد موسم میں آیا ہے جس نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ شدید سردی اور موسلا دھار بارش نے عارضی کیمپوں میں رہنے والے خاندانوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ کئی خیمے پانی سے بھر گئے اور پہلے سے تباہ حال عمارتیں مزید منہدم ہو گئیں۔
طبی سہولیات کی کمی اور خراب موسمی حالات کے باعث بچوں میں بیماریوں اور اموات کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ والدین اپنے بچوں کو سردی سے بچانے کے لیے محدود وسائل میں ممکنہ اقدامات کر رہے ہیں مگر حالات ان کے قابو سے باہر دکھائی دیتے ہیں۔ مشکل حالات کے باوجود غزہ کے بہت سے لوگ ہمت نہیں ہار رہے۔ خان یونس کے ایک کیمپ میں خطاط اور مصور ہانی دہمان نے بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کی ٹھانی۔ وہ ملبے کے درمیان دیواروں پر رنگ بھر کر عربی میں ’خوش آمدید رمضان‘ لکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ فلسطینی زندگی سے محبت کرتے ہیں اور ہر حال میں جینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک فن ایک ذریعہ ہے جس کے ذریعے مایوسی کے اندھیروں میں امید کی شمع جلائی جا سکتی ہے۔
غزہ میں اس سال کا رمضان صبر، استقامت اور امید کا امتحان ہے۔ یہاں کے باشندے بیک وقت سوگ، بے یقینی اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں مگر مذہبی اور روحانی وابستگی انہیں حوصلہ دیتی ہے۔ مساجد میں محدود پیمانے پر تراویح کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ کچھ مقامات پر بجلی کی کمی کے باعث لوگ اندھیرے میں عبادت کرتے ہیں مگر ان کے چہروں پر عزم جھلکتا ہے۔ اجتماعی افطار کا سلسلہ بھی محدود سطح پر جاری ہے، جہاں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ جو کچھ ہے بانٹ لیتے ہیں۔
اگرچہ حالات ابھی معمول پر نہیں آئے مگر غزہ کے عوام کی خواہش ہے کہ یہ جنگ بندی مستقل امن کی بنیاد بنے۔ وہ اپنے بچوں کے لیے محفوظ مستقبل چاہتے ہیں جہاں تعلیم، روزگار اور صحت کی بنیادی سہولیات میسر ہوں۔ رمضان کا پیغام صبر، شکر اور باہمی ہمدردی ہے۔ غزہ میں اس پیغام کی معنویت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ ملبے اور مشکلات کے درمیان روشن کی گئی چھوٹی چھوٹی روشنیوں کی لڑی اس بات کا ثبوت ہے کہ امید ابھی زندہ ہے۔
اس سال کا رمضان شاید روایتی خوشیوں سے خالی ہو مگر اس میں ایک اور طاقتور جذبہ ’زندگی کی جستجو اور بقا کی امید‘ شامل ہے۔ غزہ کے لوگ تمام تر مشکلات کے باوجود اس پیغام کو دنیا تک پہنچانا چاہتے ہیں کہ وہ مایوس نہیں ہوئے بلکہ ہر آزمائش کے باوجود اپنے ایمان اور عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔
