0

مغربی بنگال انتخابات کیلئے جموں و کشمیر سے 150 نیم فوجی کمپنیاں واپس بلانے کا فیصلہ

انتظامیہ کو اندرونی وسائل سے سکیورٹی سنبھالنے کی ہدایت
پہاڑی علاقوں میں فورسز برقرار، دہشت گردی مخالف کارروائیاں جاری

سرینگر//5اپریل/ مرکزی وزارت داخلہ نے پانچ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں جاری اسمبلی انتخابات کے پیش نظر جموں و کشمیر سے تقریباً 150 نیم فوجی کمپنیوں کو عارضی طور پر واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے، جنہیں خاص طور پر حساس ریاست مغربی بنگال میں تعینات کیا جائے گا۔حکام کے مطابق، انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سکیورٹی کی ذمہ داریاں اندرونی وسائل کے ذریعے پوری کرے، جن میں جموں و کشمیر پولیس آرمڈ پولیس اور انڈین ریزرو پولیس شامل ہیں۔ تاہم، یونین ٹیریٹری انتظامیہ کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ انتخابی عمل مکمل ہوتے ہی نیم فوجی دستے دوبارہ واپس بھیج دیے جائیں گے۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہسی آر پی ایف، بی ایس ایف اور ایس ایس بی کی کمپنیاں جموں و کشمیر کے دونوں خطوں سے مرحلہ وار واپس بلائی جا رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق، واپسی کے پہلے مرحلے کو مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ باقی دو مراحل آئندہ ایک ہفتے کے دوران مکمل کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فورسز کو نسبتاً کم حساس علاقوں سے ہٹایا جا رہا ہے اور ان کی جگہ جے کے پی، آرمڈ پولیس، آئی آر پی اور دیگر دستیاب وسائل کو تعینات کیا جا رہا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ یہ فیصلہ مختلف سکیورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے تفصیلی جائزوں کے بعد لیا گیا، جنہوں نے ایسے علاقوں کی نشاندہی کی جہاں سے عارضی طور پر فورسز کو ہٹایا جا سکتا ہے۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ تمام پانچ ریاستوں اور یوٹیز میں انتخابی عمل مئی کے پہلے ہفتے میں مکمل ہونے کے بعد نیم فوجی دستے چند ہی دنوں میں واپس جموں و کشمیر تعینات کر دیے جائیں گے۔اس کے علاوہ، جون کے مہینے میں سالانہ امرناتھ یاتراکے پ ±رامن انعقاد کیلئے اضافی نیم فوجی کمپنیاں بھی جموں و کشمیر بھیجی جائیں گی، جس کا شیڈول شری امرناتھ شرائین بورڈکی جانب سے جاری کیا جائے گا۔واضح رہے کہ اسمبلی انتخاباتکیرالہ،آساماور پانڈیچری میں 9 اپریل، تامل ناڈومیں 23 اپریل جبکہ مغربی بنگال میں دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو ہوں گے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق، جموں و کشمیر سے واپس بلائی جانے والی سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز کو ویسٹ بنگال میں تعینات کیا جائے گا، جو اس ماہ انتخابات کے حوالے سے سب سے زیادہ حساس ریاست قرار دی جا رہی ہے۔تاہم، حکام نے واضح کیا کہ جموں خطے کے پہاڑی اور بالائی علاقوں، جہاں غیر ملکی دہشت گردوں کی موجودگی کا شبہ ہے، کو اس عارضی واپسی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے اور وہاں دہشت گردی مخالف کارروائیاں پوری شدت کے ساتھ جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈوڈہ، کشتواڑ، کٹھوعہ، ادھم پور، ریاسی، راجوری اور پونچھ کے پہاڑی علاقوں میں نہ صرف فورسز برقرار رکھی گئی ہیں بلکہ برف پگھلنے کے ساتھ ہی آپریشنز کو مزید تیز کرنے کیلئے سکیورٹی موجودگی میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ فروری کے مہینے میں سکیورٹی فورسز نے کشتواڑ کے چھاترو علاقے میں جیش محمدکے چار اہم دہشت گردوں کو ہلاک کیا تھا، جن میں ان کا کمانڈر سیف اللہ بھی شامل تھا۔ تاہم اطلاعات کے مطابق کچھ دہشت گرد اب بھی کٹھوعہ، ادھم پور، ڈوڈہ، کشتواڑ، راجوری اور پونچھ کے بالائی علاقوں میں چھپے ہو سکتے ہیں اور پیر پنچال رینج کے ذریعے ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ تک نقل و حرکت کرتے رہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں