نئی دہلی، 3 مئی : دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے ڈیجیٹل ٹریفک چالان سسٹم نافذ کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ سسٹم کی بار بار خلاف ورزی کرنے پر ڈرائیونگ لائسنس منسوخ کیے جا سکتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ یہ نیا ڈھانچہ مرکزی موٹر وہیکل رولز، 1989 میں کی گئی ترامیم کے مطابق ہے، جس کا مقصد سڑک پر نظم و ضبط کو مضبوط کرنا، شفافیت بڑھانا اور یہ یقینی بنانا ہے کہ قوانین توڑنے والے جرمانے سے بچ نہ سکیں یا طے شدہ طریقہ کار پر عمل کیے بغیر براہ راست عدالتوں کا رخ نہ کر سکیں۔
اس نئے ڈھانچے کے تحت قوانین توڑنے والے اب طے شدہ عمل سے گزرے بغیر چالان کو چیلنج کرنے کے لیے براہ راست عدالتوں میں نہیں جا سکیں گے۔
کوئی بھی شخص اگر ایک سال کے دوران پانچ یا اس سے زیادہ مرتبہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرے گا، تو اسے ‘سنگین مجرم’ تسلیم کیا جائے گا۔ ترمیم شدہ قوانین کے تحت ایسے معاملات میں ڈرائیونگ لائسنس معطل یا منسوخ کیا جاسکتا ہے۔
اب چالان جاری کرنے کا عمل مکمل طور پر جدید ہوگا۔ کیمروں اور ڈیجیٹل نگرانی کے نظام کے ذریعے پکڑی جانے والی خلاف ورزیوں کے لیے چالان خود بخود یعنی آٹو جنریٹ ہو جائیں گے۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ اگر محکمہ کے پاس خلاف ورزی کرنے والے کا موبائل نمبر موجود ہے، تو ای-چالان تین دنوں کے اندر بھیج دیا جائے گا، جبکہ فزیکل نوٹس 15 دنوں کے اندر ارسال کیا جائے گا۔ تمام چالانوں کا ریکارڈ ایک آن لائن پورٹل پر ترتیب وار درج کیا جائے گا۔ گاڑی چلانے والوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی زحمت سے بچنے کے لیے اپنے ڈرائیونگ لائسنس اور گاڑی کی رجسٹریشن کے کاغذات میں اپنا موبائل نمبر اور پتہ اپ ڈیٹ کروا لیں۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ یہ نیا نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل، وقت کا پابند اور جوابدہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس سے سڑک حادثات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے شہریوں سے ٹریفک قوانین کی پاسداری کرنے اور ذمہ دار شہری کے طور پر برتاؤ کرنے کی اپیل کی۔
یواین آئی
0
