0

رامبن،بانہال شاہراہ منصوبے میں پیش رفت امرناتھ یاترا سے قبل اہم ٹنل اور وائڈکٹ کھولنے کی تیاری

سرینگر// 12مئی// سرینگر،جموں قومی شاہراہ کے سب سے حساس اور خطرناک رامبن-بانہال سیکٹر پر جاری فور لین تعمیراتی منصوبے میں برسوں کی تاخیر کے بعد اب تیزی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا کے حکام نے کہا ہے کہ امرناتھ یاترا سے قبل کئی اہم ٹنل اور وائڈکٹ حصے ٹریفک کے لیے کھول دیے جائیں گے تاکہ یاتریوں اور عام ٹریفک کو راحت فراہم کی جا سکے۔حکام کے مطابق ڈگڈول،پنتھیال جڑواں ٹنل کا جنوبی ٹیوب، جو جموں کی سمت جاتا ہے، یاترا کے آغاز سے قبل فعال کر دیا جائے گا۔ اس حصے کی لمبائی تقریباً 3.08 کلومیٹر ہے جبکہ شمالی ٹیوب، جو سری نگر کی جانب جاتا ہے، بعد میں مکمل ہوگا۔ تقریباً 5.7 کلومیٹر طویل اس فور لین جڑواں ٹنل منصوبے پر 866.37 کروڑ روپے لاگت آ رہی ہے۔یو این ایس کے مطابق یہ ٹنل خاص طور پر بدنام زمانہ ”کھونی نالہ“ سیکٹر کو بائی پاس کرنے کے لیے تعمیر کی جا رہی ہے، جہاں اکثر لینڈ سلائیڈنگ، شوٹنگ اسٹونز، مٹی کے تودے گرنے اور سڑک بند ہونے کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ این ایچ اے آئی پروجیکٹ ڈائریکٹر شبھم یادو نے بتایا کہ کام تیزی سے جاری ہے اور یاترا سے قبل جنوبی ٹیوب ٹریفک کے لیے کھول دی جائے گی۔ادھر زیر تعمیر 6.02 کلومیٹر طویل شیر بی بی،رامسو ایلیویٹڈ وائڈکٹ کے تقریباً 1.9 کلومیٹر حصے کو بھی امرناتھ یاترا سے پہلے ٹریفک کیلئے فعال کرنے کی تیاری جاری ہے۔ حکام کے مطابق اس میں 800 میٹر اور 1100 میٹر کے دو الگ الگ وائڈکٹ حصے شامل ہیں۔ باقی اوورہیڈ برج، فلائی اوور اور دیگر ڈھانچوں پر کام بھی جاری ہے۔منصوبے سے وابستہ حکام کا کہنا ہے کہ اگر کام کی رفتار برقرار رہی تو شیر بی بی-رامسو وائڈکٹ کا باقی حصہ دسمبر 2026 تک مکمل کیا جا سکتا ہے، بصورت دیگر منصوبہ 2027 تک بھی جا سکتا ہے۔یو این ایس کے مطابق جموں و کشمیر اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ڈگڈول،پنتھیال ٹنل منصوبے کا 85.50 فیصد فزیکل اور 84.43 فیصد مالی کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ اس کی نظرثانی شدہ تکمیل کی تاریخ 30 اپریل 2026 مقرر کی گئی تھی۔اسی طرح شیر بی بی،رامسو وائڈکٹ منصوبے کا 44.50 فیصد فزیکل اور 44.33 فیصد مالی کام مکمل ہوا ہے اور اس کی متوقع تکمیل 31 دسمبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔تاہم رامبن،بانہال سیکٹر کا ایک اور اہم حصہ، ماروگ،ڈگڈول چار لین جڑواں ٹنل منصوبہ، اب بھی سست رفتاری کا شکار ہے۔ تقریباً 4.38 کلومیٹر لمبے اس منصوبے پر اب تک صرف 25 فیصد کام مکمل ہوا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر تعمیراتی رفتار میں بہتری نہ آئی تو منصوبہ دسمبر 2027 کے بعد 2028 تک بھی کھنچ سکتا ہے۔ حکام نے بتایا کہ ماروگ-ڈگڈول ٹنل میں بھی دو الگ الگ ٹیوب شامل ہیں، جن میں ایک جموں جبکہ دوسرا سری نگر کی جانب ٹریفک لے جائے گا۔ اس منصوبے کے ذریعے موجودہ خطرناک سڑک کے تقریباً پانچ کلومیٹر حصے کو بائی پاس کیا جائے گا۔یو این ایس کے مطابق سرکاری حکام نے تاخیر کی وجوہات میں شدید بارشیں، بادل پھٹنے کے واقعات، فلیش فلڈ، دشوار گزار پہاڑی علاقہ، لینڈ سلائیڈنگ، ٹریفک دباو ¿، جغرافیائی پیچیدگیاں، مقامی رکاوٹیں، مشینری اور افرادی قوت کی تاخیر سے دستیابی اور ٹھیکیداروں کی سست رفتار کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔حکام کے مطابق رامبن-بانہال سیکٹر ہمالیائی پہاڑی سلسلے کے انتہائی غیر مستحکم علاقوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں ڈھلوانیں کمزور ہیں اور بار بار مٹی کے تودے گرنے کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔منصوبہ ابتدا میں 2015 میں بڑے پیمانے پر پہاڑ کاٹ کر سڑک تعمیر کرنے کے ماڈل پر شروع کیا گیا تھا، تاہم مسلسل لینڈ سلائیڈنگ اور ڈھلوانوں کے غیر مستحکم ہونے کے بعد حکام کو حکمت عملی تبدیل کرنا پڑی۔ بعد ازاں منصوبے کو ٹنلز، وائڈکٹس، فلائی اوورز، معلق پلوں اور اوورہیڈ برجوں پر مبنی نئے ڈیزائن کے مطابق دوبارہ ترتیب دیا گیا۔حکام نے اعتراف کیا کہ ابتدائی مرحلے میں کئی مقامات پر مناسب جغرافیائی اور ماحولیاتی جائزے کے بغیر پہاڑی کٹائی کی گئی، جس سے ڈھلوانیں مزید غیر مستحکم ہوئیں اور لینڈ سلائیڈنگ میں اضافہ ہوا۔رامبن،بانہال شاہراہ منصوبہ ابتدا میں ایچ سی سی، گیمون انڈیا اور چودھری پاور پروجیکٹس لمیٹڈکے سپرد تھا، تاہم اب زیادہ تر باقی کام سیگل انڈیا لمیٹڈ انجام دے رہی ہے۔گزشتہ برس شدید بارشوں، فلیش فلڈ اور مٹی کے تودے گرنے کے باعث شاہراہ کو کئی مرتبہ بند کرنا پڑا، جس سے وادی کشمیر کو اشیائے ضروریہ کی سپلائی اور ٹرانسپورٹ نظام بری طرح متاثر ہوا۔ سینکڑوں سیب بردار ٹرک کئی دنوں تک درماندہ رہے جس سے باغبانی شعبے کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔حکام کے مطابق اب حساس مقامات پر حفاظتی اقدامات مزید مضبوط کیے جا رہے ہیں۔ دلوَاس سیکٹر میں تقریباً 2.2 کلومیٹر ٹنل اور وائڈکٹ کام دسمبر 2025 میں مکمل کیا جا چکا ہے۔واضح رہے کہ سری نگر-جموں قومی شاہراہ کی فور لیننگ کا منصوبہ 2011 میں شروع کیا گیا تھا اور اس کی تکمیل پانچ برس میں متوقع تھی، تاہم مسلسل قدرتی آفات، دشوار گزار جغرافیہ اور تکنیکی مسائل کے باعث منصوبہ طویل تاخیر کا شکار ہو گیا۔ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد سری نگر اور جموں کے درمیان سفر کا وقت تقریباً 9 گھنٹوں سے کم ہو کر 4 گھنٹے رہ جانے اور فاصلہ تقریباً 50 کلومیٹر کم ہونے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں