0

جموں-سری نگر وندے بھارت ایکسپریس میں پہلے 10 دنوں میں تقریباً 45 ہزار مسافروں نے سفر کیا

جموں، 12 مئی (یو این آئی) جموں-سری نگر وندے بھارت ایکسپریس سروس کے آغاز کے پہلے دس دنوں میں تقریباً 45 ہزار مسافروں نے سفر کیا۔
سرکاری ترجمان نے آج بتایا کہ جب وزیر اعظم نریندر مودی نے 6 جون 2025 کو تاریخی 272 کلومیٹر طویل ادھم پور-سری نگر-بارہمولہ ریلوے لنک کا افتتاح کیا تو یہ ایک ایسا لمحہ تھا جس نے خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔
ترجمان نے کہاکہ “30 اپریل کو ریلوے وزیر اشونی ویشنو نے 20 کوچوں پر مشتمل جموں توی-سری نگر وندے بھارت ایکسپریس کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا، اور باقاعدہ سروس شروع ہونے کے صرف 10 دنوں (2 مئی سے) میں چاروں ٹرین سروسز نے دونوں سمتوں میں مجموعی طور پر 44,727 مسافروں کو سفر کرایا، جس سے یہ جموں و کشمیر کی لائف لائن بن گئی ہے۔ اپنی پہلی ہی ہفتے میں ان ٹرین سروسز نے 28,762 مسافروں کو سفر کرایا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ اس راہداری پر وندے بھارت کی دو جوڑی خدمات چل رہی ہیں۔ ایک جموں توی سے سری نگر اور واپسی کی سروس ہے، جو منگل کے علاوہ ہفتے میں چھ دن چلتی ہے، جبکہ دوسری سروس بدھ کے علاوہ تمام دنوں میں چلتی ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ “ان خدمات کے ذریعے جموں-کشمیر راہداری پر کم از کم پانچ دن روزانہ چار ٹرین سروسز دستیاب رہتی ہیں۔ ہر منگل اور بدھ کو بھی دو ٹرینیں اس مصروف راستے پر مسلسل چلتی رہتی ہیں، جو مقامی لوگوں، سیاحوں، زائرین اور تاجروں کو آمد و رفت کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔”
ترجمان کے مطابق 266 کلومیٹر طویل اس راہداری پر اب وندے بھارت کی دو جوڑی خدمات دستیاب ہیں، جس سے دونوں سروں کے مسافروں کو کم از کم ایک، اور بیشتر دنوں میں دو روزانہ آپشنز حاصل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جن دنوں دونوں جوڑی سروسز چلیں، ان دنوں مسافروں کی تعداد مسلسل گنجائش کے قریب رہی۔ 3 مئی کو 4,977، 8 مئی کو 4,955، 9 مئی کو 5,284، 10 مئی کو 5,657 اور 11 مئی کو 5,024 مسافروں نے سفر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے جو ٹرین 8 کوچوں کے ساتھ مکمل بھر جاتی تھی، اب 20 کوچوں کے باوجود تقریباً مکمل بھر رہی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس راہداری پر سفر کی مانگ کتنی زیادہ بڑھ چکی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جن دنوں صرف ایک جوڑی سروس چلائی گئی، ان دنوں بھی 5 مئی کو 95.03 فیصد اور 6 مئی کو 94.79 فیصد تک نشستیں بھری رہیں۔
ترجمان نے کہاکہ “ہفتہ وار تعطیلات کے دوران طلب میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا، جہاں صرف ہفتہ اور اتوار کو تقریباً 11 ہزار مسافروں نے سفر کیا۔”
انہوں نے کہا کہ اتوار (10 مئی) کو ٹرین کی گنجائش کا 98.21 فیصد استعمال ہوا، جو اس راہداری کی سیاحتی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ “زائرین، طلبہ، سرکاری افسران اور تاجر اب پہلی بار جموں اور سری نگر کے درمیان بغیر کسی رکاوٹ کے سفر کر رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ جو سیاح پہلے وادی کشمیر کے سفر کو مشکل سمجھتے تھے، اب وہ چناب اور انجی پل جیسے انجینئرنگ کے شاہکاروں سے گزرتے ہوئے وندے بھارت کی آرام دہ نشستوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ جموں-سری نگر وندے بھارت صرف دو شہروں کو نہیں جوڑتی بلکہ دنیا کے خوبصورت ترین ریلوے راستوں میں سے ایک کا تجربہ بھی فراہم کرتی ہے۔ “جموں کے دشوار گزار علاقوں سے لے کر چناب اور انجی جیسے حیرت انگیز پلوں، ہمالیائی چٹانوں کو کاٹ کر بنائی گئی سرنگوں اور کشمیر کی روشن وادیوں تک، اس سفر کا ہر کلومیٹر اپنے آپ میں ایک تجربہ ہے۔”
انہوں نے کہاکہ “سیاح اب جموں توی سے سوار ہو کر پانچ گھنٹے سے بھی کم وقت میں سری نگر پہنچ سکتے ہیں، جو دیگر تمام متبادل ذرائع کے مقابلے میں تیز، سستا اور زیادہ قابل اعتماد ہے۔ آئندہ سیاحتی موسم میں مسافروں کی تعداد میں مزید اضافہ متوقع ہے اور انڈین ریلوے اس مانگ کو پورا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں