سرینگر// 12مئی/ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہانے منگل کو شمالی کشمیر کے تاریخی ضلع بارہمولہ میں ”ڈرگ فری جموں و کشمیر“ مہم کے تحت ایک بڑی عوامی پدیاترا میں شرکت کرتے ہوئے منشیات کے خلاف جاری مہم کو مزید وسعت دینے کیلئے دو نئے اور اہم پروگراموں کا اعلان کیا۔ ان پروگراموں میں ”کمیونٹی امیونائزیشن پروگرام اگینسٹ ڈرگز“ اور ”فیملی فورٹریس اِنیشی ایٹو“ شامل ہیں، جنہیں آئندہ 69 دنوں تک پورے جموں و کشمیر میں خصوصی طور نافذ کیا جائے گا۔یو این ایس کے مطابق بارہمولہ میں منعقدہ ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ منشیات کے خلاف جنگ صرف پولیس یا انتظامیہ کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس مہم کو عوامی تحریک میں تبدیل کرنا چاہتی ہے تاکہ نوجوان نسل کو منشیات جیسی خطرناک لعنت سے محفوظ رکھا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح دنیا بھر میں بیماریوں اور وائرس سے بچاو ¿ کیلئے ویکسینیشن مہمات چلائی جاتی ہیں، اسی طرز پر اب جموں و کشمیر میں ”کمیونٹی امیونائزیشن“ ماڈل اپنایا جائے گا۔ اس پروگرام کے تحت مذہبی رہنماو ¿ں، سماجی کارکنوں، این جی اوز، تعلیمی اداروں اور مقامی کمیونٹی گروپوں کے اشتراک سے ہر ضلع کے 5 سے 10 حساس اور خطرناک علاقوں میں خصوصی نگرانی اور بیداری نظام قائم کیا جائے گا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یہ پروگرام ایک ”ارلی وارننگ سسٹم“ کے طور پر کام کرے گا، جس کے ذریعے ایسے علاقوں کی نشاندہی کی جائے گی جہاں نوجوان منشیات کی طرف راغب ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل نگرانی، بیداری اور سماجی تعاون کے ذریعے ان علاقوں کو مکمل طور پر منشیات سے پاک زون میں تبدیل کیا جائے گا۔انہوں نے اسکولوں، کالجوں، مساجد، مندروں، گردواروں، خانقاہوں اور سماجی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ ہر ہفتے کم از کم ایک گھنٹہ منشیات مخالف بیداری مہم کیلئے مخصوص کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر معاشرہ متحد ہوکر نوجوانوں کی رہنمائی کرے تو منشیات کے ناسور کو جڑ سے ختم کیا جاسکتا ہے۔یو این ایس کے مطابق لیفٹیننٹ گورنر نے اس موقع پر ”فیملی فورٹریس اِنیشی ایٹو“ کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ مضبوط خاندانی نظام منشیات کے خلاف سب سے مو ¿ثر دفاعی دیوار ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ 69 دنوں کے دوران جموں و کشمیر کے ہر اسکول، کالج اور عبادت گاہ میں ہفتہ وار خاندانی مکالمے منعقد کئے جائیں گے جہاں والدین، اساتذہ، نوجوانوں اور سماجی نمائندوں کے درمیان کھل کر گفتگو ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ان مکالموں کا مقصد صرف بیداری پیدا کرنا نہیں بلکہ معاشرے میں موجود خامیوں، غفلت اور کمزوریوں کی نشاندہی بھی کرنا ہے تاکہ بروقت اصلاحی اقدامات کئے جاسکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ منشیات کے خلاف لڑائی صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے نہیں جیتی جاسکتی بلکہ خاندان، سماج اور تعلیمی ادارے اس جنگ کے اصل سپاہی ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ گزشتہ 31 دنوں کے دوران ”ڈرگ فری جموں و کشمیر“ مہم کے تحت پورے یو ٹی میں 2 لاکھ 35 ہزار سے زائد بیداری پروگرام، ریلیاں، سیمینار، ورکشاپس اور عوامی رابطہ سرگرمیاں منعقد کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم کو عوام کی جانب سے غیر معمولی حمایت حاصل ہورہی ہے اور یہ جموں و کشمیر کی تاریخ کی سب سے بڑی سماجی بیداری مہم بنتی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس عرصے کے دوران 44 ہزار سے زائد او پی ڈی مریضوں کو علاج اور مشاورت فراہم کی گئی جبکہ تقریباً 700 منشیات فروشوں اور اسمگلروں کو گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت صرف چھوٹے سطح کے پھیری والوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ منشیات کے پورے نیٹ ورک، مالیاتی چین اور سرپرست عناصر کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی۔لیفٹیننٹ گورنر کے مطابق منشیات کے کاروبار سے کمائی گئی کروڑوں روپے مالیت کی جائیدادیں ضبط کی جاچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے ایسے تمام مالیاتی ذرائع، بینک کھاتوں، جائیدادوں اور فرضی کمپنیوں کی نشاندہی شروع کردی ہے جو منشیات کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں تقریباً 300 ڈرائیونگ لائسنس اور 400 سے زائد گاڑیوں کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کی سفارش کی گئی ہے کیونکہ ان گاڑیوں کو منشیات کی اسمگلنگ کیلئے استعمال کیا جارہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ منشیات فروشوں کو کسی بھی سطح پر رعایت نہیں دی جائے گی۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اب تک 3300 سے زائد میڈیکل اسٹوروں کا معائنہ کیا جاچکا ہے جبکہ ضابطوں کی خلاف ورزی پر تقریباً 150 لائسنس معطل کئے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ منشیات کے غیر قانونی استعمال کو روکنے کیلئے پورے جموں و کشمیر میں تقریباً 3000 سی سی ٹی وی کیمرے میڈیکل اسٹوروں پر نصب کئے گئے ہیں تاکہ ادویات کی فروخت اور نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ دو درجن سے زائد بڑے اسمگلروں کو این ڈی پی ایس،پی آئی ٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے اور مزید کارروائیاں جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ہر ا ±س شخص تک پہنچے گی جو نوجوانوں کی زندگیاں تباہ کرنے میں ملوث ہے،ٹیلی مانس خدمات کا ذکر کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ گزشتہ 31 دنوں کے دوران تقریباً 3000 افراد نے ٹیلی-مانس کے ذریعے مشاورت اور مدد کیلئے رابطہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ اب خوف یا شرمندگی کے بغیر مدد حاصل کرنے کیلئے آگے آرہے ہیں۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ منشیات کے عادی افراد کو مجرم یا سماجی بوجھ سمجھنے کے بجائے ایک مریض کے طور پر دیکھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ذیابیطس یا کینسر کے مریضوں کو نفرت یا تضحیک کا نشانہ نہیں بنایا جاتا، اسی طرح نشے کے شکار افراد کے ساتھ بھی عزت، ہمدردی اور سائنسی بنیادوں پر علاج کا رویہ اختیار کرنا ہوگا۔لیفٹیننٹ گورنر نے عوام، سماجی اداروں، مذہبی رہنماو ¿ں، اساتذہ اور سرکاری اہلکاروں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہوکر جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک بنانے کی اس مہم کا حصہ بنیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاشرہ اجتماعی ذمہ داری کا مظاہرہ کرے تو وہ دن دور نہیں جب جموں و کشمیر کے ہر گاو ¿ں، ہر محلے اور ہر شہر کو منشیات کی لعنت سے مکمل نجات مل جائے گی۔
0
