0

شراب بندی سے نشہ نہیں رکے گا، مرکز معاوضہ دے تو پابندی لگائیں گے: ڈاکٹر فاروق عبداللہ

سرینگر: جموں و کشمیر میں شراب بندی پر جاری الزامات، جوابات اور سیاسی بیانات کے بیچ نیشنل کانفرنس (این سی) صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ “صرف پابندی عائد کرنے سے شراب نوشی نہیں رکے گی کیونکہ عادی لوگ یونین ٹیریٹری کے باہر سے بھی شراب حاصل کر سکتے ہیں۔”

تین بار جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ “اگر مرکزی حکومت شراب کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کا معاوضہ دے تو جموں و کشمیر کو ‘ڈراے اسٹیٹ’ (Dry State) بنایا جا سکتا ہے۔”

فاروق عبداللہ نے کہا: ’’میں خود شراب نہیں پیتا، لیکن جو لوگ پیتے ہیں وہ اسے چھوڑنے والے نہیں۔ اگر یہاں نہیں ملے گی تو باہر سے لے آئیں گے۔ پھر ہم کیا کریں گے؟ جو لوگ آواز اٹھا رہے ہیں، ان سے پوچھیں کہ شراب کون پی رہا ہے؟‘‘

اپوزیشن پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی جانب سے شراب پر پابندی کے مطالبے کے بیچ انہوں نے بغیر نام لیے سابق پی ڈی پی – بی جے پی مخلوط حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ “اُن ہی کے دور میں دیہی علاقوں تک شراب کی دکانیں پھیلائی گئیں۔” ایک روز قبل نیشنل کانفرنس نے پی ڈی پی-بی جے پی حکومت کی 2017 کی ایکسائز پالیسی شیئر کی تھی، جس میں شہری اور دیہی ’’غیر خدمات یافتہ‘‘ علاقوں میں نئی شراب دکانیں کھولنے کی اجازت دی گئی تھی۔

ا
این سی دفتر سرینگر میں ایک میٹنگ کا فائل فوٹو (ای ٹی وی بھارت)
فاروق عبداللہ نے کہا: ’’2024 میں ہماری حکومت قائم ہونے کے بعد ہم نے شراب کی کوئی دکان نہیں کھولی۔ جب ہر گاؤں میں یہ دکانیں کھل رہی تھیں تب آواز کیوں نہیں اٹھائی گئی؟ ان کے پاس دکھانے کے لیے کچھ نہیں، اس لیے صرف تنقید کر رہے ہیں۔‘‘

فاروق نے مزید کہا کہ یہ سب اپنے ’’ہینڈلرز‘‘ کے اشاروں پر کیا جا رہا ہے۔ ’’ہم ان سے ڈرنے والے نہیں۔ ہم انہیں ایسی شکست دیں گے جو انہیں ہمیشہ یاد رہے گی۔‘‘

سرینگر میں پارٹی دفتر میں خطاب کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے 1977 میں سابق وزیر اعظم مورارجی دیسائی اور ان کے والد اور سابق وزیر اعلیٰ شیخ محمد عبداللہ کے درمیان ہونے والی گفتگو کا حوالہ بھی دیا۔

انہوں نے کہا: ’’مرارجی دیسائی شراب کے خلاف تھے۔ انہوں نے میرے والد سے شراب پر پابندی لگانے کو کہا۔ میرے والد نے جواب دیا کہ وہ خود شراب نہیں پیتے، لیکن اگر مرکزی حکومت اس سے حاصل ہونے والی آمدنی ہمیں دے دے تو ہم پابندی لگا دیں گے۔ آج بھی اگر ہندوستانی حکومت اس آمدنی میں مدد کرے تو مجھے یقین ہے کہ حکومت دو منٹ میں شراب بند کر دے گی۔‘‘

عمر عبداللہ کا شراب بندی پر موقف
فاروق عبداللہ کا یہ بیان وزیر اعلیٰ اور ان کے فرزند عمر عبداللہ کے اُس مؤقف کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ “شراب کی دکانیں اُن لوگوں کے لیے ہیں جنہیں ان کا مذہب شراب پینے کی اجازت دیتا ہے اور کسی کو زبردستی شراب خانوں کی طرف نہیں بھیجا جا رہا۔”

مغربی ایشیا میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے عالمی بحران اور وزیر اعظم کی کفایت شعاری مہم کے اعلان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ ملک کی معیشت شدید دباؤ میں ہے۔

انہوں نے کہا، ’’ہم ایک بڑے بحران کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ایندھن کا بحران، گیس کا بحران پیدا ہو رہا ہے اور ہم تباہی کی طرف جا رہے ہیں۔ اسی وجہ سے اسکول بسیں بند کرنے کی بات ہو رہی ہے، لیکن تعلیم بہت ضروری ہے۔ غریب لوگوں کے پاس آن لائن تعلیم کے وسائل نہیں ہیں۔ ہمیں ایسا راستہ نکالنا ہوگا جس سے تعلیم پر سمجھوتہ نہ ہو۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں