0

ریلوے نے جموں سرینگر وندے بھارت ایکسپریس کی عوام میں مقبولیت کو اہم کامیابی قرار دیا

جموں 11 مئی: جموں ریلوے ڈویژن نے جموں-سرینگر وندے بھارت ایکسپریس کو عوام کی جانب سے زبردست ردِعمل کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔ ریلوے ترجمان کے مطابق یو ایس بی آر ایل روٹ پر چلنے والی اس جدید ٹرین نے اپنے آغاز کے چند ہی دنوں میں مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کرنا شروع کر دیے ہیں۔

ریلوے محکمے کے مطابق صرف جمعہ سے اتوار کے دوران تقریباً 11 ہزار مسافروں نے جموں-سرینگر وندے بھارت ایکسپریس میں سفر کیا۔ جب کہ ٹرین کی اوسط نشستوں کی بکنگ 96 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

آرام دہ سفر اور عالمی معیار کی خدمات

ریلوے افسران کا کہنا ہے کہ جدید سہولیات، کم وقت میں آرام دہ سفر اور عالمی معیار کی خدمات کی وجہ سے مسافروں کی دلچسپی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اب تک تقریباً 40 ہزار مسافر اس ٹرین کے ذریعے سفر کر چکے ہیں۔ 2 مئی 2026 سے باقاعدہ سروس شروع ہونے کے بعد گزشتہ نو دنوں کے اعداد و شمار کے مطابق ٹرین کی اوسط آکیوپینسی 86.5 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

دنیا کے بلند ترین ریلوے پل “چناب برج” پر سفر

واضح رہے کہ وندے بھارت ایکسپریس جموں اور سرینگر کے درمیان تقریباً 267 کلومیٹر کا فاصلہ صرف 4 گھنٹے 50 منٹ میں طے کرتی ہے، جس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوتی ہے بلکہ مسافروں کو ایک عالمی معیار کا سفری تجربہ بھی حاصل ہوتا ہے۔ یہ ٹرین اپنے سفر کے دوران دنیا کے بلند ترین ریلوے پل “چناب برج” اور “انجی کھڈ برج” جیسے انجینئرنگ کے شاہکاروں سے گزرتی ہے، جو سیاحوں اور مقامی مسافروں کے لیے خاص کشش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ مسافروں نے ٹرین کے جدید حفاظتی نظام، ہموار سفر اور اعلیٰ معیار کی سہولیات کو خوب سراہا ہے۔

وادیٔ کشمیر کے حسین مناظر کے درمیان پُر آسائش سفر
اس موقع پر سینئر ڈویژنل کمرشل منیجر اچت سنگل نے ایک سرکاری بیان میں کہا کہ آنے والے سیاحتی سیزن میں ٹرین کی سو فیصد بکنگ کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے مسافروں کو وقت کی بچت کے ساتھ ساتھ وادیٔ کشمیر کے حسین مناظر کے درمیان ایک پُر آسائش سفر فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں