0

اگر ہرمز میں تعطل جون کے وسط تک جاری رہا تو عالمی تیل بازار میں بحران 2027 تک برقرار رہ سکتا ہے: آرامکو سی ای او

دوحہ، 12 مئی : سعودی عرب کی کمپنی آرامکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) امین ناصر نے کہا ہے کہ اگر ایک ماہ کے اندر آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت دوبارہ شروع نہیں ہوتی تو اگلے سال تک عالمی تیل بازار معمول کی حالت میں واپس نہیں آ سکے گا۔
ارامکو کی پہلی سہ ماہی کے نتائج پر گفتگو کے لیے منعقدہ ایک ویڈیو کانفرنس کے دوران مسٹر ناصر نے کہا کہ سپلائی میں رکاوٹ جتنی دیر تک جاری رہے گی، تیل بازار کو مستحکم ہونے میں اتنا ہی زیادہ وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز میں تعطل جون کے وسط تک برقرار رہتا ہے تو یہ بحران 2027 تک جاری رہ سکتا ہے۔
دنیا کی سب سے بڑی توانائی کمپنی کے سربراہ کے مطابق پیداوار یا نقل و حمل میں کمی کے باعث بازار پہلے ہی ایک ارب بیرل تیل کھو چکا ہے اور جب تک یہ راستہ بند رہے گا، ہر ہفتے تقریباً 10 کروڑ بیرل تیل کا نقصان ہوتا رہے گا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پہلے ہرمز سے روزانہ تقریباً 70 جہاز گزرتے تھے۔
خلیج فارس میں تیل پیدا کرنے والے ممالک پر حملوں اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو مؤثر طریقے سے بند کرنے کے باعث پیداوار اور برآمدات پر منفی اثر پڑا ہے۔ 28 فروری کو تنازع شروع ہونے سے پہلے اس آبی گزرگاہ کے ذریعے روزانہ تقریباً دو کروڑ بیرل تیل عالمی بازار میں پہنچتا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ 7 اپریل کو امریکہ اور ایران نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت بے نتیجہ رہی، لیکن بعد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک ’متحدہ تجویز‘ کے ساتھ آنے کا وقت دینے کے لیے جنگ بندی میں توسیع کر دی تھی۔
3 مئی کو مسٹر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کی مدد کے لیے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کا اعلان کیا تھا۔ پھر مسٹر ٹرمپ نے 5 مئی کو کہا کہ انہوں نے یہ دیکھنے کے لیے عارضی طور پر آپریشن روک دیا ہے کہ آیا ایران کے ساتھ امن معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے یا نہیں۔ تاہم پیر کے روز انہوں نے امریکی امن تجاویز پر ایران کے ردعمل کو مکمل طور پر ’ناقابل قبول‘ قرار دیا۔
یواین آئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں