پیانگ یانگ،10 مئی : شمالی کوریا نے دنیا کو ایک بڑے خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر ملک کے سربراہ کم جونگ ان کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی یا ملک کے نیوکلیئر کمانڈ سسٹم کو خطرہ لاحق ہوا، تو ایٹمی حملہ خودکار طریقے سے فوراً کر دیا جائے گا۔
برطانوی اخبار ‘دی ٹیلی گراف’ کی رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا نے اپنے آئین میں نئی ترامیم کی ہیں جن کے تحت ملک کا ایٹمی نظام اب ‘آٹو میٹک’ موڈ پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس خطرناک فیصلے کا پس منظر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے مشیروں کو امریکا و اسرائیل کے ممکنہ مشترکہ حملوں میں نشانہ بنانے کی اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے۔
نئی پالیسی کے مطابق اگر دشمن نے شمالی کوریا کی قیادت کو ختم کرنے یا فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے کی کوشش کی، تو بغیر کسی انسانی مداخلت یا تاخیر کے جوابی ایٹمی حملہ خود بخود لانچ ہو جائے گا۔ شمالی کوریا نے یہ اقدام اپنی سلامتی کو یقینی بنانے اور دشمن کو کسی بھی ممکنہ مہم جوئی سے باز رکھنے کے لیے اٹھایا ہے۔ عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے خطے میں ایٹمی جنگ کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔
یواین آئی
0
