0

جموں و کشمیر میں پنشن اور ریزرو فنڈس کے مالی نظم پر سوالات

سود کی عدم ادائیگی اور نیشنل پنشن سسٹم فنڈ منتقلی میں بڑی خامیوں کا انکشاف
سینکڑوں کروڑ روپے پبلک اکاو ¿نٹ میں ہی پڑے رہے، ملازمین کے پنشن منافع متاثر ہونے کا خدشہ

سرینگر/22 مئی/ جموں و کشمیر میں سرکاری فنڈز کے انتظام اور پنشن نظام سے متعلق سنگین مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ مالیاتی رپورٹ 2024-25کے مطابق ریزرو اور بچتی فنڈز پر واجب الادا سود کی ادائیگی نہ ہونے، نیشنل پنشن سسٹم (این پی ایس) میں شراکت کی کمی اور فنڈس کی منتقلی میں تاخیر نے مالی نظم و ضبط پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔رپورٹ کے مطابق مختلف سرکاری فنڈز پر مجموعی طور 45 کروڑ روپے سے زائد سود فراہم نہیں کیا گیا، جبکہ این پی ایس کے تحت جمع ہونے والی بڑی رقم بھی مقررہ وقت پر پنشن فنڈ میں منتقل نہیں کی گئی۔یو این ایس کے مطابق اسٹیٹ کمپنسیٹری افاریسٹیشن فنڈ میں یکم اپریل 2024 تک 804.56 کروڑ روپے موجود تھے، تاہم اس رقم پر واجب 28.63 کروڑ روپے سود ادا نہیں کیا گیا۔ اسی طرح اسٹیٹ کمپنسیٹری افاریسٹیشن ڈپازٹ میں جمع 499.13 کروڑ روپے پر بھی 16.69 کروڑ روپے سود فراہم نہیں کیا گیا۔ اس طرح مجموعی طور پر 1,303 کروڑ روپے سے زائد فنڈز پر 45.32 کروڑ روپے سود واجب الادا رہا۔رپورٹ میں نیشنل پنشن سسٹم سے متعلق بھی کئی اہم خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ سرکاری ملازمین کیلئے نافذ اس اسکیم کے تحت ملازمین کی تنخواہ سے 10 فیصد جبکہ حکومت کی جانب سے 14 فیصد حصہ جمع کیا جاتا ہے، جسے نیشنل سیکیورٹیز ڈیپازٹری لمیٹڈ (این ایس ڈی ایل) کے ذریعے پنشن فنڈ میں منتقل کیا جانا ضروری ہوتا ہے۔تاہم آڈیٹ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25کے دوران’ این پی ایس‘ کے تحت جمع ہونے والی 2,296 کروڑ روپے سے زائد رقم میں سے 396 کروڑ روپے این ایس ڈی ایل کو منتقل نہیں کیے گئے اور وہ پبلک اکاو ¿نٹ میں ہی پڑے رہے۔ رپورٹ کے مطابق اس تاخیر کے باعث سرکاری کیش بیلنس حقیقت سے زیادہ ظاہر ہوا۔یو این ایس کے مطابق مزید انکشاف کیا گیا کہ سال 2011 سے 2025 تک ڈیفائنڈ کنٹری بیوشن پنشن اسکیم کے تحت مجموعی طور 12,691 کروڑ روپے موصول ہوئے، لیکن ان میں سے صرف 12,242 کروڑ روپے ہی پنشن فنڈ میں منتقل کیے جا سکے، جس سے تقریباً 450 کروڑ روپے کی کمی سامنے آئی۔رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ پنشن فنڈز کی بروقت منتقلی نہ ہونے سے ملازمین کو حاصل ہونے والے منافع اور مستقبل کی پنشن فوائد متاثر ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مستقبل میں حکومت پر اضافی مالی بوجھ بڑھنے کا خدشہ ہے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سابق ریاست جموں و کشمیر کے 53 کروڑ روپے سے زائد اب تک پبلک اکاو ¿نٹ میں پڑے ہیں اور انہیں بھی این ایس ڈی ایل کو منتقل نہیں کیا گیا۔ماہرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف مالیاتی نظم و نسق میں کمزوری کی عکاسی کرتی ہے بلکہ سرکاری فنڈس کی شفافیت اور پنشن نظام کے مو ¿ثر نفاذ پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں