0

جموں و کشمیر میں ہائی بلڈ پریشر کے پھیلاﺅ میں اضافہ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے میں چونکا دینے والے اعداد و شمار،، نوجوان بھی زد میں

نمکین چائے، غیر صحت بخش خوراک، ذہنی دباو ¿ اور سست طرزِ زندگی بڑی وجہ، ہر تیسرا یا چوتھا شخص متاثر

سرینگر/22 مئی/ جموں و کشمیر میں ہائی بلڈ پریشر یا فشارِ خون ایک سنگین عوامی صحت مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جہاں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بڑی تعداد میں لوگ یا تو ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں یا اس کے ابتدائی مرحلے ”پری ہائپر ٹینشن“ میں داخل ہو چکے ہیں۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ بیماری اب صرف عمر رسیدہ افراد تک محدود نہیں رہی بلکہ نوجوانوں اور اسکولی بچوں میں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔نیشنل فیملی ہیلتھ سروے،5 (این ایف ایچ ایس) کے مطابق جموں و کشمیر میں صرف 36 فیصد خواتین اور 31 فیصد مردوں کا بلڈ پریشر نارمل پایا گیا، جبکہ تقریباً 57 فیصد آبادی پری ہائپر ٹینشن کے زمرے میں شامل ہے، جو مستقبل میں مکمل ہائی بلڈ پریشر کی خطرناک علامت تصور کی جاتی ہے۔یو این ایس کے مطابق اعداد و شمار کے مطابق 15 سے 49 سال عمر کے تقریباً 11 فیصد خواتین اور 10 فیصد مرد پہلے ہی ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ بیماری کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ماہرین کے مطابق 15 سے 19 سال عمر کے نوجوانوں میں تقریباً 3 فیصد افراد ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہیں، جبکہ 45 سے 49 برس کی عمر تک یہ شرح بڑھ کر 24 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔ اسی طرح نارمل بلڈ پریشر رکھنے والے افراد کی تعداد عمر کے ساتھ نمایاں طور پر کم ہوتی جا رہی ہے۔سرکاری اعداد و شمار میں شہری علاقوں میں دیہی علاقوں کے مقابلے میں ہائی بلڈ پریشر کے کیسز قدرے زیادہ سامنے آئے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بدلتا طرزِ زندگی، فاسٹ فوڈ، نمک اور چکنائی کا زیادہ استعمال، ورزش کی کمی، ذہنی دباو ¿، تمباکو نوشی اور نشہ آور اشیا کا بڑھتا رجحان اس بیماری کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔ڈاکٹرمحمد سلیم خان نے کہا کہ ہائی بلڈ پریشر اس وقت سب سے زیادہ پھیلنے والی غیر متعدی بیماری بن چکی ہے اور تقریباً ہر تیسرا یا چوتھا شخص اس سے متاثر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بیماری اکثر خاموشی سے جسم کے اہم اعضا کو متاثر کرتی ہے اور بروقت تشخیص نہ ہونے کی صورت میں دل کے دورے، فالج اور گردوں کی خرابی جیسے خطرناک مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں روایتی نمکین چائے ”نون چائے“ اور مقامی بیکری مصنوعات، خاص طور پر ”کاندر ژوٹھ“ میں نمک کی زیادہ مقدار بھی ہائی بلڈ پریشر میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بن رہی ہے۔ڈاکٹروں کے مطابق عالمی ادار صحت روزانہ پانچ گرام سے کم نمک استعمال کرنے کی سفارش کرتا ہے، لیکن کشمیر میں بڑی تعداد میں لوگ اس سے کہیں زیادہ نمک استعمال کر رہے ہیں۔یو این ایس کے مطابق ڈاکٹر عابد حسین نے کہا کہ ہائی بلڈ پریشر کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ اکثر مریضوں کو اس بیماری کا علم ہی نہیں ہو پاتا کیونکہ اس کی علامات واضح نہیں ہوتیں۔ ان کے مطابق بڑی تعداد میں مریض تشخیص کے باوجود ادویات باقاعدگی سے استعمال نہیں کرتے، جس سے پیچیدگیوں کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔طبی ماہرین نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ باقاعدہ بلڈ پریشر چیک کروائیں، متوازن غذا اپنائیں، ورزش کو معمول بنائیں، ذہنی دباو ¿ کم کریں اور تمباکو و نشہ آور اشیا سے دور رہیں تاکہ اس خاموش بیماری سے بچا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں