ماہرین نے بدلتے آبادیاتی رجحانات کو مستقبل کی پالیسی سازی کیلئے اہم قرار دیا
سرینگر/22 مئی/ جسٹرار جنرل آف انڈیا کی جانب سے جاری تازہ ترین سیمپل رجسٹریشن سسٹم (ایس آر ایس) بلیٹن 2024 کے مطابق جموں و کشمیر میں آبادی کی قدرتی شرحِ نمو میں مسلسل کمی درج کی گئی ہے، جو خطے میں بدلتے سماجی، معاشی اور آبادیاتی رجحانات کی عکاسی کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر کی قدرتی شرحِ نمو 2024 میں 9.2 فی ہزار آبادی ریکارڈ کی گئی ہے جو قومی اوسط 11.9 سے نمایاں طور پر کم ہے۔ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جموں و کشمیر بتدریج کم آبادیاتی نمو والے خطوں کی صف میں شامل ہو رہا ہے جہاں شرح پیدائش میں کمی اور اموات کی نسبتاً کم شرح نے آبادی بڑھنے کی رفتار کو معتدل بنا دیا ہے۔یو این ایس کے مطابق ایس آر ایس بلیٹن کے مطابق جموں و کشمیر میں شرح پیدائش 2024 کے دوران 14.6 فی ہزار آبادی ریکارڈ کی گئی جبکہ قومی سطح پر یہ شرح 18.3 رہی۔ اسی طرح جموں و کشمیر میں شرح اموات 5.5 فی ہزار آبادی رہی جو ملک کی مجموعی شرح 6.4 سے کم ہے۔ ان دونوں کے فرق کی بنیاد پر قدرتی شرح نمو 9.2 ریکارڈ کی گئی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کی آبادیاتی صورتحال ملک کی کئی بڑی ریاستوں کے مقابلے میں کافی مختلف ہے۔ مثال کے طور پر بہار میں قدرتی شرح نمو 20.8، اتر پردیش میں 17.2، راجستھان میں 17.0 اور مدھیہ پردیش میں 15.8 ریکارڈ کی گئی، جبکہ جموں و کشمیر ان تمام ریاستوں سے کافی نیچے رہا۔ تاہم کیرالا، تمل ناڈو اور پنجاب جیسی ریاستیں آبادیاتی تبدیلی کے اگلے مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں جہاں شرح نمو بالترتیب 3.9، 4.8 اور 6.5 ریکارڈ کی گئی۔رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر کے شہری اور دیہی علاقوں میں آبادی بڑھنے کی رفتار میں نمایاں فرق موجود ہے۔ دیہی علاقوں میں قدرتی شرح نمو 10.3 ریکارڈ کی گئی جبکہ شہری علاقوں میں یہ صرف 6.7 رہی، جو ملک کی سب سے کم شرح نمو والی ریاستوں کے برابر سمجھی جا رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ رجحان شہری علاقوں میں بدلتے طرزِ زندگی، تعلیم کی بڑھتی شرح، تاخیر سے شادیوں، صحت سہولیات تک بہتر رسائی اور خاندانی منصوبہ بندی کے بڑھتے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق شہری جموں و کشمیر کی شرح نمو ملک میں پانچویں سب سے کم شرح ہے۔ صرف کیرالا، مغربی بنگال، تمل ناڈو اور اڈیشہ میں شہری آبادی کی شرح نمو اس سے کم ریکارڈ کی گئی۔یو این ایس کے مطابق رپورٹ میں بچوں کی شرح اموات کے حوالے سے بھی جموں و کشمیر کی صورتحال کو بہتر قرار دیا گیا ہے۔ 2024 میں خطے میں انفنٹ مارٹیلٹی ریٹ (آئی ایم آر) یعنی ایک ہزار زندہ پیدا ہونے والے بچوں میں اموات کی شرح 14 ریکارڈ کی گئی، جبکہ قومی اوسط 24 رہی۔ شہری علاقوں میں یہ شرح 12 جبکہ دیہی علاقوں میں 15 ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار ماں اور بچے کی صحت سے متعلق خدمات میں بہتری اور صحت کے شعبے میں مثبت پیش رفت کی عکاسی کرتے ہیں۔آبادیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ شرح پیدائش میں کمی اور آبادی کی معتدل رفتار کے کئی سماجی اور اقتصادی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق کم آبادیاتی دباو ¿ سے زمین، شہری بنیادی ڈھانچے، عوامی خدمات اور روزگار کے شعبے پر بوجھ کم ہوتا ہے، جو جموں و کشمیر جیسے جغرافیائی طور محدود خطے کیلئے اہم پیش رفت سمجھی جاتی ہے۔تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شرح پیدائش میں مسلسل کمی مستقبل میں آبادی کے عمرانی ڈھانچے کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق وقت کے ساتھ بزرگ آبادی کا تناسب بڑھنے اور نوجوان ورک فورس میں کمی جیسے چیلنجز سامنے آ سکتے ہیں، جن کیلئے طویل مدتی پالیسی سازی کی ضرورت ہوگی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان شرح پیدائش کا فرق اس بات کا بھی مظہر ہے کہ جموں و کشمیر میں سماجی رویوں، خاندانی ترجیحات اور زندگی کے انداز میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے۔واضح رہے کہ سیمپل رجسٹریشن سسٹم (ایس آر ایس) بلیٹن بھارت میں آبادی، شرح پیدائش، شرح اموات اور دیگر آبادیاتی رجحانات سے متعلق سب سے اہم سرکاری دستاویزات میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ رپورٹ مسلسل فیلڈ سروے اور تمام ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں نمونہ جاتی آبادیاتی تجزیے کی بنیاد پر تیار کی جاتی ہے۔
