0

کٹرہ سے کولگام تک مجوزہ چار گلیاروں والی شاہراہ منصوبہ

جموں اور جنوبی کشمیر کے درمیان رابطہ مزید مضبوط بنانے کی تیاری کی راہ ہموار
پہاڑی اور دور دراز علاقوں کیلئے ہمہ موسم رابطہ سڑک سے سفر اور تجارت میں آسانی متوقع

سرینگر/22 مئی/ جموں و کشمیر کے پہاڑی اور دور افتادہ علاقوں کو ہر موسم میں بہتر سڑک رابطہ فراہم کرنے کی سمت میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر حکومت نے کٹرہ سے کولگام تک مجوزہ چار رویہ ہائی وے کوریڈور منصوبے پر کام تیز کردیا ہے۔ یہ مجوزہ شاہراہ ریاسی، مہور، گلاب گڑھ اور نندی مرگ جیسے دشوار گزار علاقوں کو جموں اور جنوبی کشمیر سے جوڑے گی، جس سے نہ صرف سفر میں آسانی آئے گی بلکہ خراب موسمی حالات کے دوران بھی آمدورفت کا سلسلہ برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ حکام کے مطابق اس اہم سڑک منصوبے سے سیاحت، تجارت، ٹرانسپورٹ اور مقامی اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ ملنے کے ساتھ ساتھ خطے کے عوام کیلئے ہمہ موسمی رابطہ نظام کو مزید مضبوط بنانے کی راہ ہموار ہوگی۔یو این ایس کے مطابق اس سلسلسے میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا نے جموں اور جنوبی کشمیر کے درمیان رابطہ نظام کو مزید مضبوط بنانے کیلئے مجوزہ چار رویہ کٹرہ،ریاسی،مہور،گلاب گڑھ،نندی مرگ،کولگام ہائی وے کوریڈور کی تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (ڈی پی آر) تیار کرنے کیلئے ٹینڈر طلب کرلئے ہیں۔سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ مجوزہ شاہراہ قومی شاہراہ کو جنوبی کشمیر سے جوڑے گی اور جموں و کشمیر کے کئی پہاڑی اور دور افتادہ علاقوں سے گزرے گی، جس سے خطے میں سڑک رابطہ اور آمدورفت کے نظام کو نمایاں فروغ ملنے کی توقع ہے۔یو این ایس کے مطابق این ایچ اے آئی کے ریجنل دفتر جموں کی جانب سے جاری ٹینڈر نوٹس کے مطابق منصوبے کے تحت کٹرا سے کولگام تک اس اہم شاہراہ کو چار رویہ بنانے کیلئے مکمل تکنیکی اور انجینئرنگ جائزہ لیا جائے گا۔حکام کے مطابق اس منصوبے سے جموں اور جنوبی کشمیر کے درمیان سفر کا وقت کم ہوگا جبکہ سیاحت، تجارت، ٹرانسپورٹ اور مقامی معیشت کو بھی فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔یہ مجوزہ شاہراہ مہور، گلاب گڑھ اور نندی مرگ جیسے دور دراز اور پہاڑی علاقوں کو ہر موسم میں بہتر سڑک رابطہ فراہم کرے گی، جہاں خراب موسمی حالات اور دشوار گزار راستوں کے باعث اکثر آمدورفت متاثر رہتی ہے۔ٹینڈر دستاویزات کے مطابق ڈی پی آر کی تیاری میں فزیبلٹی اسٹڈی، ٹریفک سروے، سڑک کے مجوزہ راستے کی منصوبہ بندی، انجینئرنگ ڈیزائن اور دیگر تکنیکی جائزے شامل ہوں گے تاکہ منصوبے پر عمل درآمد کیلئے مکمل خاکہ تیار کیا جا سکے۔این ایچ اے آئی نے اس منصوبے کیلئے اوپن ٹینڈر عمل شروع کیا ہے جبکہ بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ 22 جون 2026 مقرر کی گئی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ منصوبہ جموں و کشمیر کے پہاڑی خطوں میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں