ممبئی ، 30 اکتوبر (یو این آئی) سچن دیو برمن ہندوستانی فلمی موسیقی کے عظیم ترین موسیقاروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ برمن صاحب کلاسیکی موسیقی، بنگالی لوک دھنوں ، سادہ مگر دل کو چھو لینے والی دُھنوں کے لیے مشہور تھے۔انہوں نے بنگالی اور ہندی دونوں فلموں میں موسیقی دی۔ سچن دیو برمن کا جوہندستانی فلم انڈسٹری کا ایک بڑا نام اور اپنے وقت کے عظیم سنگیت کار تھے، فلمی صنعت کے چند باکمال اور بے مثال موسیقاروں میں شامل تھے۔ موسیقار ایس ڈی برمن کے فلمی گیتوں کو آج بھی بہت شوق سے سنا جاتا ہے اور خاص طور پر موسیقار اور اس فن کی باریکیوں کو سمجھنے والے ایس ڈی برمن کے کمالِ فن کا اعتراف کرتے نظر آتے ہیں۔موسیقار ایس ڈی برمن کی دھنوں میں مقبول ہونے والے کئی فلمی گیت ایسے تھے جن کو فلم کی کامیابی کی بڑی وجہ قرار دیا گیا۔ ایس ڈی برمن کی وجہ سے کئی نغمہ نگاروں اور گلوکاروں کو مقبولیت حاصل ہوئی۔ موسیقار ایس ڈی برمن کو ہندستانی فلمی صنعت کا اہم ستون بھی کہا جاتا ہے۔
ہر دلعزیز موسیقار سچن دیو برمن کی مدھر موسیقی آج بھی سامعین کو بے پناہ محظوظ کرتی ہے۔ ا ن کے جانے کے بعد بھی موسیقی شیدائیوں کے دل سے ایک ہی آواز آتی ہے ’’ او جانے والے ہوسکے تو لوٹ کے آنا‘‘۔
سچن دیو برمن کی پیدائش 10 اکتوبر 1906 میں تریپورہ کے شاہی گھرانے میں ہوئی۔ بچپن سے ہی سچن دیو برمن کارجحان موسیقی کی جانب تھا اور وہ اپنے والد سے شاستریہ سنگیت کی تعلیم لیا کرتےتھے۔ اسی کے ساتھ ہی انہوں نے استاد بادل خان اور بھیشم دیو چٹوپادھیائے سے بھی شاستریہ سنگیت کی تعلیم حاصل کی۔
زندگی کے ابتدائی دور میں سچن نے ریڈیو سےشمال مشرق سے نشر ہونے والے لوک سنگیت کے پروگراموں میں کام کیا۔ سال 1930 تک وہ لوک گائیک کے طور پر اپنی شناخت بنا چکے تھے۔ بطور گلوکار انہوں نے 1933 میں ریلیز فلم یہودی کی لڑکی میں گانے کا موقع ملا لیکن بعد میں اس فلم سے ان کے گائے ہوئے نغمہ کو ہٹا دیا گیا۔ انہوں نے 1935 میں ریلیز فلم سنجھور پدم کے نغموں کو بھی اپنی آواز دی لیکن وہ کچھ خاص کمال نہیں کرپائے۔
سال 1944 میں موسیقار بننے کا خواب لئے سچن دیو ممبئی آگئے۔ جہاں سب سے پہلے انہوں نے 1946 میں فلمستان فلم ’’ایٹ ڈیز‘‘ میں بطور موسیقار کام کرنے کا موقع ملا لیکن اس فلم کے ذریعہ وہ کچھ خاص پہنچان نہیں بناسکے۔ اس کے بعد 1947 میں ان کے موسیقی سے سجی فلم دو بھائی کا نغمہ ’’میرا سندر سپنا بیت گیا‘‘ کےبعد وہ کچھ حد تک بطور موسیقار اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوئے۔
0
