0

جموں و کشمیر اسمبلی میں ریزرویشن سرٹیفکیٹوں کے اجراءکامعاملہ

جموں میں 86فیصد ،کشمیرمیں صرف14فیصدجاری
موجودہ ریزرویشن پالیسی تباہ کن ثابت ہوگی:ممبراسمبلی سجاد لون
جموں:۴۱،فروری : جموں و کشمیر اسمبلی میں پیش کیے گئے تازہ اعداد و شمار نے ریزرویشن سرٹیفکیٹس کے اجرا ءمیں شدید علاقائی عدم توازن کا انکشاف کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے ایک کٹ موشن کے جواب میں فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق سات محفوظ زمروں میں جاری کیے گئے تقریباً 11.81 لاکھ سرٹیفکیٹس میں سے قریب 86 فیصد جموں خطے میں جبکہ صرف 14 فیصد کشمیر میں جاری کیے گئے۔ یہ جانکاری پیپلز کانفرنس کے صدر اور ممبراسمبلی ہندوارہ سجاد غنی لون کی جانب سے اٹھائے گئے سوال کے جواب میں ایوان میں پیش کیے گئے۔جے کے این ایس کے مطابق ممبراسمبلی سجاد لون نے ای ٹی وی بھارت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ ریزرویشن پالیسی طویل مدت میں تباہ کن ثابت ہوگی اور حکومت کو چاہیے کہ وہ خطہ وار بنیادوں پر اس مسئلے کا جائزہ لے کر انصاف کو یقینی بنائے انہوں نے کہا کہ کشمیر کی 60فیصد آبادی کو نقصان کا سامنا ہے۔انہوںنے کہاکہ اگر اوپن میرٹ میں10فیصد بڑھائی جاتی ہیں تو پھر بھی 5 ہی امیدوار کشمیر کے رہیں گے۔ سجادلون کا مانناہے کہ جموں کشمیرکی کابینہ سب کمیٹی کی سفارشات سے کچھ بھی نہیں ہوگا کیونکہ ان کے پاس اس کا علاج نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ کی سب کمیٹی کے ذریعے جو10 فیصد اضافے کی بات کی جا رہی ہے وہ عملی طور پر صرف 2 فیصد میں تبدیل ہوگا جو مسئلے کا حل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ لیول اور صوبائی لیول پر نوکریاں دی جائیں تاکہ امیدواروں کو اپنا حق ملے۔ممبراسمبلی ہندوارہ سجاد غنی لون نے کہا کہ اگر آبادی میں کشمیر کا حصہ تقریباً 60فیصد ہے تو ملازمتوں میں کم از کم50 فیصد حصہ ملنا چاہیے مگر اس وقت کشمیر کو صرف 25 سے 30 فیصد حصہ مل رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کے جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ 11.81 لاکھ سرٹیفکیٹس میں سے 10.16 لاکھ جموں جبکہ صرف 1.65 لاکھ کشمیر میں جاری کیے گئے جو کہ واضح عدم توازن کو ظاہر کرتا ہے۔سجاد لون نے ای ڈبلیو ایس سرٹیفکیٹس کے اجرا پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ دونوں خطوں میں فی کس آمدنی تقریباً یکساں ہے اور غربت کی شرح بھی قریب قریب برابر ہے، پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ 91.3 فیصد سرٹیفکیٹس جموں میں اور صرف 8.6 فیصد کشمیر میں جاری کیے گئے انہوں نے کہا کہ موجودہ ریزرویشن فریم ورک کے تحت کشمیر کو ملازمتوں میں نہایت کم حصہ مل رہا ہے اور آبادی کے تناسب سے تقریباً35 فیصد کی کمی پائی جاتی ہے۔ے ایک اور سوال کے جواب میں سجاد غنی لون نے جموں کشمیر اسمبلی میں بی جے پی کے گاندھی نگر سے رکن اسمبلی وکرم رندھاوا کے بیان پر بھی سخت ردعمل ظاہر کیا۔بی جے پی رہنما وکرم رندھاوا نے ایوان میں بتایا کہ جموں میں زیادہ تر کشمیر سے آئے لوگوں نے غیر قانونی طور پر زمینوں پر قبضہ کیا ہے اور حکومت ان زمینوں کو خالی کرانے کے لیے اقدامات نہیں کر رہی جو کہ جموں کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی سازش ہے۔سجاد لون نے اس بیان کو خطرناک تقسیم پیدا کرنے والا اور ایک پوری آبادی کو بدنام کرنے کی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ بی جے پی ایم ایل اے کے الفاظ کو ایوان کی کارروائی سے حذف کیا جائے کیونکہ ایسے بیانات نسلی نوعیت کے ہیں اور سیاسی فائدے کے لیے نسل پرستی کو ہوا دی جا رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں بی جے پی کے کچھ رہنما جموں کے لیے علیحدہ ریاست کا مطالبہ کر رہے تھے مگر بعد میں دہلی سے آنے والے ان کے رہنماو ¿ں نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر متحد رہے گا انہوں کہا کہ میں تو چاہتا ہی ہوں کہ کشمیر جموں خطے سے الگ ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں