سرینگر: وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل میں ایک مبینہ انکاؤنٹر میں فوج کی جانب سے ایک ملی ٹنٹ کو ہلاک کرنے کے دعوے کے ایک روز بعد جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور رکن پارلیمنٹ آغا روح اللہ مہدی نے اس واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ گرچہ دونوں رہنماؤں نے ‘جعلی انکاؤنٹر’ کا الزام عائد نہیں کیا تاہم متوفی کے اہل خانہ کے بیان حوالہ دیتے ہوئے فوری انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔
دونوں رہنماؤں کی جانب سے یہ مطالبہ ایک اس وقت پر سامنے آیا ہے جب میڈیا رپورٹس میں ہلاک ہونے والے شخص کے اہل خانہ کے حوالے سے کہا گیا کہ وہ بے گناہ تھا اور اس کا عسکریت پسندی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
کشمیر میں تعینات بھارتی فوج کی چنار کور نے جمعرات کو کہا کہ اس نے گاندربل کے ارہامہ علاقے میں ایک آپریشن کے دوران ایک ملی ٹنٹ کو ہلاک کیا۔ فوج کے مطابق: “31 مارچ 2026 کی رات جاری وقفے وقفے سے فائرنگ کے دوران محاصرہ حکمت عملی کے تحت دوبارہ ترتیب دیا گیا، اور فوج نے مؤثر جواب دیتے ہوئے ایک دہشت گرد کو ہلاک کیا۔”
جموں و کشمیر پولیس نے اس مبینہ انکاؤنٹر کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ اور آغا روح اللہ نے پولیس کی اس پر اسرار خاموشی کا بھی تذکرہ کرتے ہوئے فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق گاندربل کے ‘چونٹی ولی وار’ نامی علاقے سے تعلق رکھنے والے راشد احمد مغل کے بھائی اعجاز احمد نے بتایا کہ وہ منگل کو گھر سے نکلا اور واپس نہیں آیا۔ بدھ کی شام میڈیا میں خبریں آئیں کہ گاندربل کے ارہامہ جنگلات میں انکاؤنٹر شروع ہوا ہے۔و
جمعرات کو زیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنے سماجی رابطہ گاہ ایکس پر لکھے بیان میں کہا کہ “اہل خانہ کے دعوے کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔” انہوں نےلکھا: “کم از کم اس انکاؤنٹر کی شفاف اور وقت مقررہ کے اندر تحقیقات ہونی چاہیے اور حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔ کسی بھی تاخیر یا معاملہ دبانے کی کوشش سے اعتماد کو نقصان پہنچے گا۔”
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی اس انکاؤنٹر کے فرضی ہونے کے الزامات ہیں۔ انہوں نے کہا: “یہ نوجوان 29 سالہ راشد مغل تھا جو ایک این جی او چلا رہا تھا۔ پہلے فوج نے اسے غیر ملکی بتایا، پھر مقامی عسکریت پسند کہا۔ اس کی لاش بارہمولہ میں دفن کی گئی۔ یہ یہاں نوجوانوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔”
این سی کے رکن پارلیمنٹ آغا روح اللہ مہدی نے آزاد اور وقت مقررہ کے اندر اندر تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے لکھا: “راشد احمد مغل کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ ایک بے گناہ شہری تھا اور اس کا عسکریت پسندی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔” انہوں نے مزیدلکھا: “اس کے کپڑے بھی بدلے گئے۔ فوج اس کی شناخت ظاہر نہیں کر رہی۔ یہ انتہائی سنگین الزامات ہیں۔ جموں و کشمیر پولیس کی خاموشی ناقابل قبول ہے۔”
