0

جموں کشمیر پولیس نے کیا بین ریاستی دہشت گرد ماڈیول کا پردہ فاش، پانچ گرفتار

سرینگر: جموں و کشمیر پولیس نے کالعدم عسکری تنظیم لشکرِ طیبہ کے ایک بین ریاستی دہشت گرد ماڈیول کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے پانچ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد میں عبداللہ عرف ابو ہریرہ بھی شامل ہے جو، ایجنسیز کے مطابق، گزشتہ 16 سال سے گرفتاری سے بچنے کے لیے مفرور تھا اور یونین ٹیریٹری سے باہر اپنے ٹھکانے قائم کرنے میں بھی کامیاب ہو چکا تھا۔ یہ تفصیل پولیس حکام نے دی۔

حکام کے مطابق عبداللہ کے علاوہ ایک اور پاکستانی دہشت گرد عثمان عرف خبیب کو بھی اس بڑی کارروائی میں گرفتار کیا گیا، جس میں جموں و کشمیر پولیس کے ساتھ مرکزی ایجنسیز نے بھی حصہ لیا۔

تفتیش کاروں نے جموں و کشمیر کے علاوہ راجستھان اور ہریانہ سمیت 19 مقامات پر چھاپے مارے اور قابل اعتراض مواد برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیا۔ تحقیقات کے دوران لشکرِ طیبہ کا ایک مضبوط نیٹ ورک بے نقاب ہوا جو دہشت گردوں کو لاجسٹک اور مالی مدد فراہم کر رہا تھا۔

اس ضمن میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے حکام نے بتایا کہ گرفتار کیے گئے افراد میں سرینگر سے تعلق رکھنے والے تین افراد بھی شامل ہیں جن میں؛ محمد نقیب بٹ، عادل رشید بٹ اور غلام محمد میر عرف ماما شامل ہیں۔ ان پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کھانا اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کا الزام ہے۔

حکام کے مطابق تحقیقات سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ ایک غیر ملکی دہشت گرد جعلی دستاویزات اور شناخت کی بنیاد پر ملک سے باہر جانے میں کامیاب ہوا، جس میں اس کی لشکرِ طیبہ کے نیٹ ورک نے مدد کی۔

یہ دہشت گرد تقریباً 16 سال پہلے بھارت میں داخل ہوئے تھے اور اس دوران کشمیر وادی کے مختلف اضلاع میں سرگرم رہے۔ برسوں کے دوران انہوں نے تقریباً 40 غیر ملکی دہشت گردوں کو ہینڈل کیا اور انہیں کمان دی، جن میں سے زیادہ تر کو سکیورٹی فورسز نے ہلاک کر دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں