سرینگر: ہائی کورٹ آف جموں کشمیر اینڈ لداخ نے سرینگر میں ایک اہم فیصلہ میں آپس میں جڑی دو عرضیاں خارج کر دیں، جو ایک مرحوم خاتون کی دو بیٹیوں نے دائر کی تھیں۔ دونوں بیٹیوں نے بارہمولہ-کپوارہ روڈ کی کشادگی کے لیے حاصل کی گئی زمین کے معاوضے میں حصہ مانگا تھا، تاہم عدالت نے انہیں سول کورٹ میں وراثت کے بڑے مقدمے کو جاری رکھنے کا حق برقرار رکھا ہے۔
جسٹس موکشا کھجوریا کاظمی نے اپنے 23 صفحات پر مشتمل فیصلے کی شروعات والدین کی محبت اور وراثت پر ایک جذباتی نوٹ سے کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف جائیداد کا تنازع نہیں بلکہ خاندان، یادوں اور تاخیر سے کیے گئے دعووں کی کہانی بھی ہے۔ انہوں نے کہا: “والدین عام طور پر اپنے بچوں کو دو چیزیں دینا چاہتے ہیں، ایک جڑیں (roots) اور دوسری پرواز (wings)۔” مزید یہ بھی کہا کہ اس کیس میں والد نے اپنی کم عمر غیر شادی شدہ بیٹی کو سہارا دیا جبکہ شادی شدہ بڑی بیٹی کو خود مختار زندگی بنانے کا موقع دیا۔
یہ کیس بارہمولہ-کپوارہ سڑک کی توسیع کے لیے دلنہ، بارہمولہ علاقے میں زمین حاصل کرنے سے متعلق تھا، جہاں سروے نمبر 92-B اور 233 کی زمین نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا نے حاصل کی۔ درخواست گزار، مرحومہ مسماۃ مالہ بیگم کی قانونی وارثین، نے دعویٰ کیا کہ زمین اصل میں عبدالاحد گنائی کی تھی اور ان کی وفات کے بعد اسلامی قانون کے مطابق یہ جائیداد ان کی بیوہ اور دو بیٹیوں میں تقسیم ہونی چاہیے تھی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کی خالہ سارہ بیگم نے جعلسازی کے ذریعے پرانا انتقال اپنے نام کروایا اور خود کو واحد مالک ظاہر کر دیا، جس سے ان کی والدہ کو وراثت سے محروم کر دیا گیا۔
اس کیس میں معاوضے کی رقم کافی بڑی تھی۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق سارہ بیگم کو سروے نمبر 233 کے لیے تقریباً 2 کروڑ 48 لاکھ روپے اور سروے نمبر 92-B کے لیے تقریباً 2 کروڑ 98 لاکھ روپے دیے گئے، جو مجموعی طور پر 5.47 کروڑ روپے سے زیادہ بنتے ہیں۔
درخواست گزاروں نے ضلع کلکٹر بارہمولہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ معاوضے کے تنازع کو قانون کے تحت سول عدالت بھیجیں، لیکن 11 مارچ 2025 کو ان کی درخواست مسترد کر دی گئی، جس کے بعد انہوں نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔
ہائی کورٹ میں درخواست گزاروں کے وکیل نے کہا کہ کلکٹر نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا اور معاملہ عدالت کو بھیجنے کے بجائے خود فیصلہ کر لیا۔ تاہم عدالت نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار ابھی تک اس زمین میں کوئی قانونی حق یا ملکیت ثابت نہیں کر سکیں، اس لیے انہیں اس مرحلے پر “دلچسپی رکھنے والے فریق” نہیں مانا جا سکتا۔
عدالت نے نوٹ کیا کہ سارہ بیگم کے حق میں انتقال 1954 سے قائم ہے اور اس کو نہ تو درخواست گزاروں کی والدہ نے اپنی زندگی میں چیلنج کیا اور نہ ہی بیٹیوں نے، یہاں تک کہ شاہراہ کے لیے زمین حاصل ہونے کا عمل شروع ہوا۔ عدالت نے کہا: “ابتدائی طور پر درخواست گزاروں کا اس جائیداد میں کوئی واضح حق یا ملکیت ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ یہ معاملہ ابھی متعلقہ عدالتوں میں طے ہونا باقی ہے۔”
عدالت نے یہ بھی بتایا کہ درخواست گزار پہلے ہی پرنسپل ڈسٹرکٹ جج بارہمولہ کی عدالت میں ایک سول مقدمہ دائر کر چکی ہیں، جس میں ملکیت، تقسیم، علیحدہ قبضہ اور دیگر دعوے شامل ہیں۔ عدالت نے کہا کہ اصل حل اسی مقدمے اور انتقال کے خلاف زیر التوا نظرثانی درخواست میں ہے۔
آرٹیکل 226 کے تحت مداخلت سے انکار کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ زیر اعتراض حکم میں کوئی غیر قانونی یا غلطی نظر نہیں آتی، اس لیے دونوں عرضیاں خارج کی جاتی ہیں۔ تاہم عدالت نے ایک متوازن فیصلہ دیتے ہوئے درخواست گزاروں کے مستقبل کے حقوق کو محفوظ رکھا۔
عدالت نے حکم دیا کہ ضلع کلکٹر بارہمولہ فوری طور پر معاوضہ سارہ بیگم کو ادا کرے، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اگر بعد میں درخواست گزار سول مقدمے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو سارہ بیگم یا ان کے ورثاء انہیں ان کا جائز حصہ ادا کریں گے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ان عرضیوں کی برخواستگی سے درخواست گزاروں کے سول مقدمے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور اس کیس میں دی گئی رائے سے متاثر ہوئے بغیر فیصلہ کیا جائے گا۔
