0

جموں کشمیر کے دو بجلی منصوبے NHPCکو دینے پر سیاست گرم

سرینگر 2: اپریل عقاب نیوز ڈیسک: جموں و کشمیر میں دو ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کو نیشنل ہائیڈرو پاور کارپوریشن (NHPC) کے حوالے کرنے کے معاہدے پر سیاسی تنازع شروع ہو گیا ہے۔ اپوزیشن جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے اسے نیشنل کانفرنس (این سی ) حکومت کا “یو ٹرن” قرار دیا ہے۔

گزشتہ ہفتے ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ جموں و کشمیر اسٹیٹ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن (JKSPDCL) نے 27 مارچ کو جموں میں NHPC کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس کے تحت 500 میگاواٹ کے دو بجلی منصوبے بنائے جائیں گے۔ ان منصوبوں میں کشمیر کا 240 میگاواٹ اوڑی (Uri-I اسٹیج-II) اور جموں کے کشتواڑ کا 260 میگاواٹ ڈول ہستی (Dulhasti اسٹیج-II) شامل ہیں۔ یہ منصوبے NHPC کی جانب سے تیار کرکے چالیس برس ان ہی کے استعمال اور زیر کنٹرول رہیں گے تاہم بارہ فیصد بجلی حصہ ہی ریاست کو ملے گا۔
پی ڈی پی لیڈر اور پلوامہ سے منتخب ایم ایل اے وحید الرحمن پرہ اور محبوبہ مفتی کی دختر -التجا- نے حکومت سے سوال کیا کہ “جب پہلے NHPC سے پروجیکٹس واپس لینے کا وعدہ کیا گیا تھا تو اب نئے معاہدے کیوں کیے جا رہے ہیں؟” پرہ نے کہا کہ 2011 میں سفارش کی گئی تھی کہ یہ منصوبے جموں و کشمیر کو واپس دیے جائیں، تو اب یہ یو ٹرن کیوں؟

التجا مفتی نے الزام عائد کیا کہ این سی حکومت نے بار بار ریاست کے ہائیڈرو پاور منصوبے NHPC کے حوالے کیے ہیں۔ انہوں نے کہا : “عمر عبداللہ نے بطور وزیر اعلیٰ دوبارہ دو منصوبے NHPC کو دے دیے، جبکہ 1996 میں فاروق عبداللہ نے بھی آٹھ منصوبے سستے داموں دیے تھے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “جب لوگ بجلی کی کمی اور مہنگے بلوں سے پریشان ہیں، ایسے وقت میں یہ فیصلہ مستقبل میں بھی نقصان دہ ثابت ہوگا۔”

دوسری طرف این سی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے PDP پر جھوٹ پھیلانے کا جوابی الزام لگایا ہے۔ پارٹی کے ترجمان عمران نبی ڈار نے کہا کہ “اصل فیصلہ 2021 میں لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کے دوران لیا گیا تھا۔”

این سی کے مطابق 2020 میں JKSPDCL کے بورڈ نے ان منصوبوں کو NHPC کے ذریعے بنانے کا فیصلہ کیا اور 2021 میں مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط ہوئے، جب کوئی منتخب حکومت موجود نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے صرف حتمی معاہدہ مکمل کیا ہے اور اس میں جموں و کشمیر کے مفادات کا خیال رکھا گیا ہے۔

حکومت کے مطابق اس معاہدے میں جموں و کشمیر کو 12 فیصد مفت بجلی، 1 فیصد مقامی ترقی فنڈ، 80 فیصد مقامی روزگار، اور 40 سال بعد منصوبوں کی مفت واپسی شامل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں