سرینگر، 26 اپریل : وزارتِ داخلہ ( ایم ایچ اے) نے لداخ کے دیرینہ مطالبات کو حل کرنے کے لیے ایک بار پھر سیاسی مکالمے کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں سب کمیٹی کا اہم اجلاس 22 مئی کو طلب کیا گیا ہے۔
لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘X’ پر اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا”مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ وزارتِ داخلہ نے 22 مئی کو سیاسی مذاکرات کے لیے سب کمیٹی کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ قدم لداخ کے اہم اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعمیری جمہوری مکالمے کو آگے بڑھائے گا اور عوامی خواہشات کے مطابق پائیدار حل کی راہ ہموار کرے گا۔
یہ فیصلہ لداخ میں حالیہ مہینوں میں جاری سیاسی سرگرمیوں اور احتجاج کے بعد سامنے آیا ہے۔ معروف سماجی کارکن سونم وانگچک، جنہیں حال ہی میں رہا کیا گیا تھا، نے بھی حکومت سے مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ کیا تھا۔22 مئی کی میٹنگ میں لداخ کے لیے مکمل ریاست کا درجہ۔ لداخ کی زمین، ملازمتوں اور ثقافت کے تحفظ کے لیے خصوصی آئینی دفعات اور لداخ کو آئین کے چھٹے شیڈول میں شامل کرنے کے کلیدی مطالبات پر بحث متوقع ہے۔
مذاکرات سے قبل، مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ 30 اپریل کو لداخ کے دو روزہ دورے پر لیہہ پہنچ رہے ہیں۔ یکم مئی کو وزیرِ داخلہ بدھ پورنیما کے موقع پر بھگوان بدھ کے مقدس تبرکات کی زیارت کریں گے اور اپنی عقیدت کا اظہار کریں گے۔ لداخ بدھسٹ ایسوسی ایشن کے مطابق، لداخ کی تاریخ میں یہ محض تیسرا موقع ہے جب ان مقدس تبرکات کی عوامی نمائش کی جا رہی ہے، جو یکم سے 14 مئی تک جاری رہے گی۔
0
