سرینگر/29 اپریل/عقاب نیوز ڈیسک//کل یعنی 30 اپریل 2026 کو مرکزی ریلوے وزیر شری اشوینی ویشناو جموں تاوی ریلوے اسٹیشن سے وندے بھارت ایکسپریس کی توسیع یافتہ سروس کو روانہ کریں گے۔ یہ وہی ٹرین ہے جو پہلے صرف سری نگر سے کٹرہ تک چلتی تھی، اب یہ سفر جموں تاوی تک بڑھا دیا گیا ہے۔ افتتاح کے بعد وزیر صاحب USBRL کوریڈور پر تعمیر کردہ دو انجینئرنگ شاہکاروں — انجی پل اور چناب پل — کا معائنہ بھی کریں گے۔
جب گزشتہ سال 6 جون 2025 کو وزیراعظم نریندر مودی نے کٹرہ–سری نگر وندے بھارت کو روانہ کیا تھا، اس وقت ٹرین میں صرف 8 ڈبے تھے۔ لیکن مسافروں کا جوش اتنا زیادہ تھا کہ سیٹیں دنوں پہلے ہی بھر جاتی تھیں، ویٹنگ لسٹ بڑھتی رہی اور لوگوں کی مایوسی بھی۔ اسی کو دیکھتے ہوئے اب ڈبوں کی تعداد 8 سے بڑھا کر 20 کر دی گئی ہے، یعنی نشستوں میں دوگنے سے بھی زیادہ اضافہ۔ اب نہ زائرین کو سیٹ کے لیے مہینوں پہلے دوڑنا پڑے گا، نہ سیاحوں کو مایوس ہونا پڑے گا اور نہ مقامی لوگوں کو سفر ملتوی کرنا پڑے گا۔
کل کا سفر افتتاحی ہوگا، تاہم باقاعدہ سروس 2 مئی 2026 سے شروع ہوگی۔ تقریباً 266 کلومیٹر کے اس راستے پر دو جوڑی ٹرینیں چلیں گی۔ پہلی سروس جموں تاوی سے صبح 6 بج کر 20 منٹ پر روانہ ہوگی اور کٹرہ، ریاسی اور بنہال میں رکتے ہوئے سری نگر صبح 11 بج کر 10 منٹ پر پہنچے گی۔ واپسی سری نگر سے دوپہر 2 بجے ہوگی اور جموں تاوی شام 6 بج کر 50 منٹ پر۔ یہ جوڑی منگل کے علاوہ ہفتے میں چھ دن چلے گی۔ دوسری سروس سری نگر سے صبح 8 بجے روانہ ہو کر بنہال اور کٹرہ رکتے ہوئے جموں تاوی دوپہر 12 بج کر 40 منٹ پر پہنچے گی، اور واپسی جموں تاوی سے دوپہر 1 بج کر 20 منٹ پر ہوگی جو سری نگر شام 6 بجے پہنچے گی۔ یہ جوڑی بدھ کے علاوہ ہفتے میں چھ دن چلے گی۔ یعنی اب ہفتے کے بیشتر دنوں میں دونوں سروں سے صبح اور دوپہر، دونوں وقت سفر کا اختیار موجود ہے۔
اب تک جموں تاوی سے آنے والے مسافروں کو کٹرہ پر ٹرین بدلنی پڑتی تھی یا سڑک کا راستہ اختیار کرنا پڑتا تھا۔ دہلی، ممبئی یا ملک کے کسی بھی کونے سے آنے والا مسافر اب جموں تاوی پر براہِ راست وندے بھارت میں سوار ہو سکتا ہے اور کٹرہ ہوتے ہوئے سیدھا سری نگر پہنچ سکتا ہے، بغیر کسی پریشانی کے اور بغیر ٹرین بدلے۔
ماں ویشنو دیوی کے درشن کو جانے والے لاکھوں عقیدت مند اب ایک ہی ٹرین میں کٹرہ پہنچیں گے۔ اور جو لوگ ویشنو دیوی کے ساتھ امرناتھ یاترا بھی کرتے ہیں، جن کے بیس کیمپ سری نگر کے قریب ہیں، وہ پورا سفر ایک ہی سواری میں مکمل کر سکتے ہیں، نہ الگ بکنگ، نہ کنکشن چھوٹنے کا خوف۔ جموں میں اترنے والا سیاح بھی اب وندے بھارت میں بیٹھ کر شوالک کی پہاڑیوں سے گزرتا، چناب اور انجی کے تاریخی پلوں کو پار کرتا، ہمالیہ کی سرنگوں سے نکلتا سیدھا سری نگر کی خوبصورت وادی میں داخل ہو سکتا ہے، بغیر پہاڑی سڑکوں کے خطرات کے۔
سری نگر سے جموں پڑھنے جانے والا طالبعلم، دونوں دارالحکومتوں کے درمیان آنے جانے والا سرکاری ملازم، علاج کے لیے سفر کرنے والا مریض، ان سب کو اب کٹرہ پر رکنا نہیں پڑے گا۔ اور سردیوں میں جب جموں سری نگر ہائی وے برف سے بند ہو جاتا ہے، تب یہ ٹرین واقعی ایک لائف لائن بن جاتی ہے۔ وندے بھارت کو منفی 20 ڈگری تک کام کرنے کے لیے بنایا گیا ہے، گرم شیشے، جدید ہیٹنگ سسٹم اور ہر موسم کے لیے تیار اجزاء کے ساتھ۔
پشمینہ شالیں، اخروٹ کی لکڑی پر نقاشی، ہاتھ سے بنے قالین، کیسر — کشمیر کی معیشت انہی دستکاریوں پر چلتی ہے۔ اب ایک کاریگر جموں کی نمائش میں جائے، ایک تاجر سری نگر سے مال اٹھائے یا ایک برآمدکنندہ وادی سے باہر نکلے، سب کے لیے یہ سفر پہلے سے سستا، تیز اور آسان ہوگا۔
وزیر صاحب جن دو پلوں کا معائنہ کریں گے، وہ واقعی انسانی ذہانت کی لاجواب مثال ہیں۔ انجی پل ہندوستان کا پہلا کیبل اسٹیڈ ریلوے پل ہے جو 331 میٹر بلندی پر 96 اسٹیل کیبلوں پر قائم ہے۔ چناب پل دنیا کا سب سے اونچا ریلوے آرچ پل ہے، 359 میٹر اونچا، ایفل ٹاور سے بھی زیادہ۔ یہ دونوں پل اس 272 کلومیٹر طویل USBRL منصوبے کی جان ہیں جو 36 سرنگوں اور 943 پلوں کے ذریعے ہمالیہ کو چیر کر بنایا گیا ہے اور جس کی کل لاگت 43 ہزار 780 کروڑ روپے ہے۔
2014 میں اودھم پور–کٹرہ سیکشن کھلا، فروری 2024 میں وادی کشمیر میں پہلی بار بجلی سے چلنے والی ٹرین دوڑی، جنوری 2025 میں جموں ریلوے ڈویژن قائم ہوا، اور اب 2026 میں یہ ٹرین جموں تاوی سے سری نگر تک بغیر کسی رکاوٹ کے دوڑنے کے لیے تیار ہے۔ یہ صرف ایک ٹرین کی توسیع نہیں ہے — یہ لاکھوں لوگوں کی زندگی میں آسانی کا ایک نیا اور روشن باب ہے۔
