سرینگر/جموں، 29 اپریل: عقاب ویب ڈیسک/حکومتِ جموں و کشمیر کے ٹرانسپورٹ محکمہ نے مختلف کمرشل مسافر گاڑیوں کے کرایوں میں اضافہ کرنے سے متعلق ایک اہم نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ اس حکم نامے کے مطابق مختلف زمروں کی گاڑیوں کے کرایوں میں 18 فیصد تک اضافہ منظور کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فیصلہ موٹر وہیکلز ایکٹ 1988 کی متعلقہ دفعات کے تحت لیا گیا ہے، جس کے تحت حکومت نے ٹرانسپورٹ کمشنر جموں و کشمیر کو ہدایت دی ہے کہ وہ کمرشل مسافر گاڑیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ قابلِ وصول کرایہ مقرر کریں۔
جاری کردہ تفصیلات کے مطابق جن گاڑیوں کے کرایوں میں 18 فیصد اضافہ کیا گیا ہے ان میں بڑی بسیں (اسٹیج کیریجز)، میڈیم اور منی بسیں، ٹیکسی/میکسی کیب (بنیادی ماڈلز جیسے سُمو، بولیرو، ٹاٹا انڈیکا، سوئفٹ، ونگر، ٹیمپو ٹریولر وغیرہ)، درمیانے درجے کی سیاحتی ٹیکسیز (ٹیوارا، اسکارپیو، کوالس وغیرہ)، اعلیٰ درجے کی سیاحتی ٹیکسیز (انووا، فارچیونر وغیرہ)، پیٹرول آٹو رکشہ اور اسٹیج کیریجز (جیسے ٹاٹا میجک) شامل ہیں۔
مزید برآں، نوٹیفکیشن میں ای-رکشہ اور ای-آٹو کے کرایوں کو بھی واضح کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق ای-رکشہ کا کرایہ 15 روپے فی کلومیٹر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ای-آٹو کے لیے پہلے کلومیٹر کا کرایہ 25 روپے اور اس کے بعد ہر کلومیٹر کے لیے 20 روپے مقرر کیا گیا ہے۔
اس فیصلے کے بعد عوامی حلقوں میں ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے، جہاں ایک طرف ٹرانسپورٹرز اسے مہنگائی کے پیش نظر ضروری قرار دے رہے ہیں، وہیں عام مسافر طبقہ اس اضافے کو اپنے روزمرہ اخراجات میں مزید بوجھ قرار دے رہا ہے۔
