0

جموں کرائم برانچ نے شناخت کی ہیرا پھیری اور جعلسازی کے معاملے میں ایف آئی آر درج کی

جموں، 5 مئی (یواین آئی) جموں و کشمیر پولیس کی کرائم برانچ نے حال ہی میں جموں خطے میں شناخت میں ہیرا پھیری اور سرکاری دستاویزات میں جعلسازی کے ایک سنگین معاملے میں ایف آئی آر درج کی ہے۔
2 مئی 2026 کو کرائم برانچ جموں میں درج ایف آئی آر نمبر 13 کے مطابق ایک شکایت گزار کمل (رہائشی برنائی روڈ، گراہ کیرن، تحصیل جموں نارتھ) نے الزام لگایا کہ کرشن چند (رہائشی گاؤں پٹولی برہمنہ، تحصیل جموں نارتھ، ضلع جموں) نے حقائق کو غلط انداز میں پیش کرتے ہوئے دھوکہ دہی کے ذریعے مختلف سرکاری ریکارڈ میں اپنا نام نند لال کے بیٹے کے طور پر درج کروا لیا۔ اس پر 1976 کا ایک جعلی شہریت سرٹیفکیٹ (فائل نمبر 1862) استعمال کرنے کا بھی الزام ہے۔
شکایت گزار نے الزام عائد کیا کہ اس جعلی سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر اس نے جموں و کشمیر کے محکمۂ تعلیم میں ملازمت بھی حاصل کر لی اور غیر منقولہ جائیداد بھی خرید لی، جبکہ وہ ریاست کا شہری نہیں تھا اور نہ ہی نند لال سے اس کا کوئی تعلق تھا۔ اصل میں وہ راجو نامی شخص کا بیٹا ہے، جو شالیہ پور چھپریال، سیالکوٹ (پاکستان) کا رہائشی ہے اور جس کا 1947 کے فسادات کے دوران قتل کر دیا گیا تھا۔
کرشن چند اپنی والدہ دھنی دیوی اور چچا کے ساتھ ہندستان آ گیا تھا۔ اس کے چچا امرتسر میں آباد ہو گئے، جبکہ دھنی دیوی کچھ عرصے بعد جموں آ گئیں اور ایک مہاجر رہائش گاہ میں رہنے لگیں۔ شکایت گزار نے الزام لگایا کہ دھنی دیوی اور کرشن چند کا نند لال سے کوئی تعلق نہیں ہے، جس نے دو شادیاں کی تھیں۔
بعد ازاں کرشن چند نے پیدائش سرٹیفکیٹ/جموں کے پولیس اسٹیشن گمت کا ریکارڈ، ووٹر لسٹ، جموں و کشمیر بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کی جانب سے جاری تاریخِ پیدائش سرٹیفکیٹ، راشن کارڈ اور شہریت سرٹیفکیٹ کے ذریعے خود کو نند لال کا بیٹا ظاہر کیا۔
اس کے بعد تھانہ خصوصی کرائم برانچ جموں میں باقاعدہ معاملہ درج کر لیا گیا ہے اور تفتیش کی ذمہ داری تفتیشی افسر، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس دیپک جسروٹیا (خصوصی کرائم برانچ، جموں) کو سونپی گئی ہے۔
یواین آئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں