0

بند دروازوں کے پیچھے: کشمیر میں ذہنی صحت کا خاموش بحران

40 فیصد سے زائد افراد نفسیاتی دباو کا شکار، نوجوان اور طلبہ سب سے زیادہ متاثر
خاندانوں کی بے توجہی، سماجی دباو اور خاموشی مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے

سرینگر// 6 مئی 2026/: وادی کشمیر میں ذہنی صحت کا ایک ایسا بحران جنم لے رہا ہے جو بظاہر خاموش ہے مگر اس کے اثرات گہرے اور وسیع ہیں۔ گھروں کے اندر بدلتے رویے،جیسے کسی طالب علم کا تنہائی اختیار کرنا، بات چیت میں کمی، نیند کے معمولات میں تبدیلی یا اچانک چڑچڑاپن،اکثر نظرانداز کر دیے جاتے ہیں اور انہیں وقتی دباو ¿ یا موڈ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔تاہم ماہرین کے مطابق یہ علامات محض وقتی نہیں بلکہ ایک سنگین نفسیاتی مسئلے کی نشاندہی بھی ہو سکتی ہیں۔یو این ایس کے مطابق خطے میں کی گئی مختلف مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ وادی میں 40 فیصد سے زائد بالغ افراد کسی نہ کسی درجے کے نفسیاتی دباو ¿ کا شکار ہیں، جبکہ نوجوانوں خصوصاً طلبہ میں بے چینی، ڈپریشن اور ذہنی تناو ¿ کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔سرینگر سے تعلق رکھنے والے ایک کونسلر نے بتایا کہ ذہنی مسائل اچانک ظاہر نہیں ہوتے بلکہ وقت کے ساتھ خاموشی سے بڑھتے ہیں۔ ان کے مطابق جب تک خاندان اس تبدیلی کو محسوس کرتے ہیں، تب تک متاثرہ فرد کافی عرصے سے اس کیفیت سے گزر رہا ہوتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ ذہنی صحت کے بارے میں معاشرتی فہم کی کمی ہے۔ بیشتر گھروں میں اب بھی یہ توقع کی جاتی ہے کہ جذباتی دباو ¿ وقت کے ساتھ خود بخود ختم ہو جائے گا یا مذہبی و سماجی سرگرمیاں اس کا حل بن جائیں گی۔ اگرچہ یہ عوامل وقتی سکون فراہم کر سکتے ہیں، لیکن پیشہ ورانہ مدد کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔نوجوانوں کو درپیش چیلنجز بھی بدل چکے ہیں۔ سوشل میڈیا جہاں ایک طرف رابطے کا ذریعہ ہے، وہیں دوسری طرف موازنہ، نیند کی کمی اور مسلسل دباو ¿ کا باعث بھی بن رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق کئی نوجوان موبائل فون کا استعمال دراصل ایک خاموش پناہ گاہ کے طور پر کرتے ہیں، جہاں وہ اپنے جذبات کو وقتی طور پر چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔اس کے باوجود ذہنی صحت کے لیے مدد حاصل کرنا اب بھی ایک مشکل مرحلہ ہے۔ کونسلنگ کو اکثر غیر معمولی یا آخری حل کے طور پر دیکھا جاتا ہے، حالانکہ ماہرین کا ماننا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں مدد حاصل کرنے سے بڑی پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ چند سیشن بھی فرد کو اپنے جذبات کو سمجھنے اور سنبھالنے میں مدد دے سکتے ہیں۔وادی بھر میں ہیلپ لائنز اور کونسلنگ مراکز کے مطابق خاص طور پر طلبہ کی جانب سے رابطوں میں اضافہ ہوا ہے، تاہم اب بھی بڑی تعداد میں لوگ ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ ایک ماہر کے مطابق،”کبھی کبھار صرف گھر میں کسی کا بغیر تنقید کے سن لینا ہی کافی ہوتا ہے، جو کسی کی زندگی بدل سکتا ہے۔“ماہرین نے خاندانوں کے کردار کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں جیسے تنہائی، غصہ، دلچسپی میں کمی یا روزمرہ معمولات میں اچانک فرق پر توجہ دینا ضروری ہے۔ سب سے بڑھ کر، ایسا ماحول فراہم کرنا چاہیے جہاں نوجوان بلا جھجھک اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں۔کشمیر جیسے مضبوط اور صبر آزما معاشرے میں آج کا یہ چیلنج خاموش اور ذاتی نوعیت کا ہے، جو گھروں کے اندر پروان چڑھ رہا ہے۔ علامات موجود ہیں، مگر وہ خود کو ظاہر نہیں کرتیں،اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم انہیں دیکھنے اور سمجھنے کے لیے تیار ہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں