0

جموں و کشمیر میں 10 میں سے 8 افراد کا سرکاری ہسپتالوں پر انحصار

سرینگر// 28اپریل// جموں کشمیر میں صحت کے شعبے سے متعلق تازہ قومی اعداد و شمار نے انکشاف کیا ہے کہ یہاں کی بڑی آبادی علاج کے لیے سرکاری ہسپتالوں پر انحصار کرتی ہے، جہاں 80.5 فیصد مریضوں کا داخلہ انہی اداروں میں ہوتا ہے۔یہ اعداد و شمار قومی شماریات دفتر کی جانب سے جاری کردہ ”ہاو ¿س ہولڈ سوشل کنزمپشن: ہیلتھ“ رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جس کے مطابق جموں و کشمیر ملک کی ان ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں شامل ہے جہاں عوامی نظام صحت پر سب سے زیادہ انحصار پایا جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق صرف اروناچل پردیش،لداخ،تری پورہ، اور اندو مان نکوبار جزائرمیں سرکاری ہسپتالوں میں داخلے کی شرح اس سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ماہرین کے مطابق عوامی شعبے پر یہ انحصار علاج کے اخراجات کو قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر میں ایک مریض کے ہسپتال میں داخلے پر اوسط ذاتی خرچ 23,079 روپے ہے، جو قومی سطح پر درمیانے درجے میں شمار ہوتا ہے۔اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سرکاری ہسپتالوں میں یہی خرچ اوسطاً 10,549 روپے ہے، جبکہ نجی ہسپتالوں میں یہ بڑھ کر 50,467 روپے تک پہنچ جاتا ہے، جو دونوں شعبوں کے درمیان نمایاں فرق کو ظاہر کرتا ہے۔یو این ایس کے مطابق دیہی علاقوں میں 62.9 فیصد افراد علاج کے لیے سرکاری مراکز کا رخ کرتے ہیں جبکہ صرف 7 فیصد نجی ہسپتالوں سے رجوع کرتے ہیں۔ شہری علاقوں میں بھی سرکاری اداروں کا استعمال 31.3 فیصد ہے، جبکہ 17.2 فیصد افراد نجی ہسپتالوں کا انتخاب کرتے ہیں، اور 48.6 فیصد نجی ڈاکٹروں سے رجوع کرتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ہر 1000 افراد میں سے تقریباً 25 افراد کو سال بھر میں ہسپتال میں داخلے کی ضرورت پیش آتی ہے۔’او پی ڈی‘ علاج پر اوسط خرچ 1820 روپے فی کیس ریکارڈ کیا گیا، جو کئی ریاستوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔یہ نتائج آیوشمان بھارت اور صحت سکیم جیسے صحت منصوبوں کے تناظر میں بھی اہمیت رکھتے ہیں، جو ہسپتال میں داخل مریضوں کے لیے مالی تحفظ فراہم کرتے ہیں، اگرچہ او پی ڈی اخراجات ان میں شامل نہیں ہوتے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نجی صحت خدمات جموں و کشمیر میں مہنگی ہیں اور غیر طبی اخراجات بھی مریضوں پر بوجھ ڈالتے ہیں، ایسے میں سرکاری ہسپتال عوام کے لیے ایک اہم سہارا ثابت ہو رہے ہیں۔اگرچہ سرکاری صحت نظام کو عملے کی کمی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم یہ اب بھی خطے کی اکثریت کے لیے سستی اور قابلِ رسائی صحت خدمات فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں