0

جھیل آنچار ایک صدی میں 80 فیصد سکڑ گئی ماحولیاتی تباہی کے دہانے پر، فوری اقدامات کی ضرورت

1893-94میں 19.54 مربع کلومیٹرسے سکڑ کر صرف 4.26 مربع کلومیٹر میں سمٹ گیا

سرینگر//25اپریل// جھیل آنچار، جو کبھی سری نگر کے مضافات میں واقع ایک وسیع اور شفاف میٹھے پانی کی جھیل تھی، گزشتہ ایک صدی کے دوران تقریباً 80 فیصد سکڑ چکی ہے۔ ایک حالیہ تحقیقی مطالعے نے خبردار کیا ہے کہ یہ اہم آبی ذخیرہ تیزی سے ماحولیاتی تباہی کے قریب پہنچ رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق یہ انکشاف شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کشمیر کے محققین کی جانب سے شائع ہونے والی تحقیق میں سامنے آیا، جو “کشمیر کی پانچ بڑی ویٹ لینڈز کا تنقیدی جائزہ” کے عنوان سے”اے اے ٹی سی سی رئیو جرنل‘ میں شائع ہوئی ہے۔تحقیق کے مطابق، آنچار جھیل کا رقبہ 1893-94میں تقریباً 19.54 مربع کلومیٹر تھا، جو اب گھٹ کر صرف 4.26 مربع کلومیٹر رہ گیا ہے۔ محققین کے مطابق جھیل کے حجم میں یہ کمی وقت کے ساتھ مسلسل ماحولیاتی بگاڑ کی عکاسی کرتی ہے۔تحقیق میں جھیل کو ایک نیم شہری، واحد حوض پر مشتمل آبی ذخیرہ قرار دیا گیا ہے جو سری نگر سے تقریباً 14 کلومیٹر شمال مغرب میں 1,583 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ ماضی میں یہ جھیل اپنی شفافیت کے باعث پینے اور گھریلو استعمال کے لیے مشہور تھی، تاہم اب اس کی حالت انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔رپورٹ کے مطابق جھیل کی بگڑتی حالت کی بڑی وجوہات میں غیر قانونی قبضے، سیوریج کا اخراج اور گھریلو کچرے کی بے دریغ نکاسی شامل ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کئی مقامات پر پہلے جھیل کو مٹی سے بھرا گیا اور بعد ازاں وہاں مکانات تعمیر کیے گئے، جس سے جھیل کا رقبہ مسلسل کم ہوتا گیا۔آلودگی کی صورتحال مزید سنگین ہو چکی ہے کیونکہ جھیل میں بغیر کسی صفائی کے سیوریج، پلاسٹک، پولیتھین، کپڑے اور حتیٰ کہ اسپتالوں کا فضلہ بھی شامل ہو رہا ہے۔ خاص طور پر شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے حوالے سے تحقیق میں کہا گیا ہے کہ مناسب سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ نہ ہونے کے باعث اسپتال کا فضلہ بھی جھیل میں شامل ہوتا رہا ہے۔سائنسی مشاہدات کے مطابق زرعی بہاو ¿ اور گھریلو فضلے کی وجہ سے جھیل میں غذائی اجزائ کی مقدار میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے پانی کی کیمیائی ساخت متاثر ہو رہی ہے۔ تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ آکسیجن کی کمی اور غیر ہوادار حالات پیدا ہو رہے ہیں، جس سے زہریلی گیسیں جیسے ہائیڈروجن، میتھین اور امونیا خارج ہو رہی ہیں، جو آبی حیات کے لیے نقصان دہ ہیں۔محققین کے مطابق جھیل اس وقت “ڈسٹروفک” حالت میں ہے اور اگر یہی صورتحال جاری رہی تو یہ مکمل طور پر “یوٹروفک” حالت میں داخل ہو سکتی ہے، جس سے پانی کا معیار اور حیاتیاتی تنوع شدید متاثر ہوگا۔ مطالعے میں حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ فوری اقدامات کریں، جن میں غیر قانونی قبضوں کی روک تھام، سیوریج کی مناسب صفائی، ٹھوس فضلہ کا مو ¿ثر انتظام اور جھیل کے قدرتی نظام کی بحالی شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں