دسمبر 2025 تک تقریباً 1.78 کروڑ سیاحوں کی آمد اعتماد کی بحالی کی عکاسی // پارلیمانی قائمہ کمیٹی
سرینگر//25اپریل// پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے امورِ داخلہ نے جموں و کشمیر میں سیاحت کے شعبے میں غیر معمولی اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بغیر منصوبہ بندی کے ترقی نازک ماحولیاتی نظام پر دباو ¿ ڈال سکتی ہے اور معروف سیاحتی مقامات پر بوجھ بڑھا سکتی ہے۔کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اگرچہ 2025 میں سیاحوں کی آمد میں 2024 کے مقابلے میں کچھ کمی آئی، جس کی بڑی وجہ پہلگام واقعہ بتایا گیا، تاہم جون 2025 کے بعد بحالی کے آثار نمایاں ہوئے اور دسمبر 2025 تک تقریباً 1.78 کروڑ سیاحوں کی آمد اعتماد کی بحالی کی عکاسی کرتی ہے۔کمیٹی کے مطابق سیاحت جموں و کشمیر میں معیشت اور روزگار کا ایک اہم ستون بن چکی ہے، جس سے ہوٹل انڈسٹری، ٹرانسپورٹ، دستکاری اور دیگر شعبوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ تاہم مسلسل بڑھتی ہوئی سیاحتی آمد سے پہلے سے مصروف مقامات پر دباو ¿ بڑھنے اور ماحولیاتی نقصان کا خدشہ بھی ہے۔یو این ایس کے مطابق کمیٹی نے سفارش کی کہ نئے اور ابھرتے ہوئے سیاحتی مقامات کی ترقی کے ساتھ مناسب بنیادی ڈھانچہ، ویسٹ مینجمنٹ سسٹم، کیرینگ کیپیسٹی کا تعین، بہتر رابطہ سڑکیں اور مقامی آبادی کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔مزید کہا گیا کہ ایک جامع اور طویل مدتی پائیدار سیاحتی حکمت عملی تیار کی جائے جس میں ماحولیاتی تحفظ اور سیاحوں کی گنجائش کے اصول شامل ہوں، جبکہ نئے مقامات پر ترقیاتی کاموں کو مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے۔کمیٹی نے ہائی ویلیو سیاحت جیسے ایکو ٹورزم، ایڈونچر ٹورزم اور سرمائی سیاحت پر زور دیتے ہوئے مقامی نوجوانوں کے لیے اسکل ڈیولپمنٹ اور کاروباری معاونت کی بھی سفارش کی۔ ساتھ ہی سیاحوں کے اطمینان، سیکیورٹی اور بنیادی سہولیات کی باقاعدہ نگرانی کو بھی ضروری قرار دیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ 2022 سے 2024 کے درمیان جموں و کشمیر میں سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا، جو 1.88 کروڑ سے بڑھ کر 2.36 کروڑ تک پہنچ گئی، جبکہ غیر ملکی سیاحوں کی آمد بھی 20 ہزار سے بڑھ کر 65 ہزار سے تجاوز کر گئی، جو عالمی سطح پر اعتماد میں اضافے کی نشاندہی ہے۔دریں اثنا، کمیٹی نے مہاجرین کی بازآبادکاری کے حوالے سے کہا کہ 47 ہزار سے زائد خاندان اب بھی امداد پر منحصر ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مکمل بحالی کا عمل ابھی باقی ہے۔کمیٹی نے جموں میں 5,248 دو کمروں والے مکانات کی تکمیل اور وادی میں ٹرانزٹ رہائش گاہوں کی تعمیر میں پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ زیر تعمیر 1,888 یونٹس کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے تاکہ ملازمین کو محفوظ رہائش فراہم کی جا سکے۔روزگار کے حوالے سے کمیٹی نے بتایا کہ خصوصی پیکیج کے تحت منظور شدہ 6,000 اسامیوں میں سے 5,896 پر تقرری ہو چکی ہے، تاہم باقی اسامیوں کو بھی جلد از جلد پر کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔کمیٹی نے ڈی بی ٹی نظام، ڈیجیٹل دستاویزات اور پی ایم جے اے وائی سہت کارڈز کے نفاذ کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے شفافیت اور سہولیات تک رسائی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔آخر میں کمیٹی نے واضح کیا کہ مہاجرین کی بازآبادکاری صرف فلاحی اقدام نہیں بلکہ ایک حساس سماجی و معاشی اور انسانی مسئلہ ہے، جس کے لیے مستقل کوششیں، رہائش، روزگار، اعتماد سازی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے۔
