0

سرینگر بنا پھیپھڑوں کے سرطان کا مرکز — سکمز ڈائریکٹر کا چونکا دینے والا انکشاف

سرینگر، 30 اپریل /عقاب ویب ڈیسک: وادیٔ کشمیر کے دل سرینگر سے ایک تشویشناک خبر سامنے آئی ہے۔ شیرِ کشمیر انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (سکمز) کے ڈائریکٹر پروفیسر ایم اشرف گنی نے انکشاف کیا ہے کہ ابتدائی طبی اعداد و شمار کے مطابق سرینگر پورے ہندوستان میں پھیپھڑوں کے سرطان کے سب سے زیادہ کیسز ریکارڈ کرنے والے شہروں میں شامل ہو گیا ہے — یہ انکشاف صحتِ عامہ کے حلقوں میں ہلچل مچا رہا ہے۔

رجسٹری ڈیٹا نے بجائی خطرے کی گھنٹی

پروفیسر گنی نے سکمز کی جاری کینسر رجسٹری کے تجزیے کی بنیاد پر بتایا کہ ادارے کے داخلی اعداد و شمار کے رجحانات غیرمعمولی حد تک بلند تعداد میں پھیپھڑوں کے سرطان کے کیسز کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جامع اور سرکاری طور پر تصدیق شدہ اعداد و شمار جلد عوام کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ حتمی ڈیٹا کا انتظار جاری ہے، تاہم موجودہ رجسٹری کا ڈیٹا اس صورتِ حال کی سنگینی کو پہلے سے ثابت کر رہا ہے۔ خطے میں مردوں میں پھیپھڑوں کا سرطان سب سے عام مہلک مرض کے طور پر مسلسل سامنے آ رہا ہے۔

تمباکو اور آلودگی — دوہرا وار

ادارے کے ماہرینِ صحت نے اس تشویشناک رجحان کی بنیادی وجوہات میں تمباکو کے بے تحاشہ استعمال اور ماحولیاتی آلودگی کو سرِفہرست قرار دیا ہے۔ سکمز کی سابقہ رپورٹوں میں بھی سگریٹ نوشی کو جموں و کشمیر میں پھیپھڑوں کے سرطان کی سب سے بڑی وجہ کے طور پر نشاندہی کی گئی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی سے جڑی سانس کی بیماریوں میں بھی خطرناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جو صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔

ہزاروں کیسز کا بوجھ

سکمز کی کینسر رجسٹری، جو حالیہ برسوں سے باقاعدہ طور پر فعال ہے، پورے کشمیر میں ہزاروں کینسر کیسز کو دستاویزی شکل دے چکی ہے۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ تشخیصی سہولیات اور رپورٹنگ کے نظام میں بہتری کے ساتھ ساتھ مرض کے واقعات میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے — جو ایک پریشان کن صورتِ حال ہے۔

آنے والا ڈیٹا دے گا واضح تصویر

حکام کے مطابق جلد جاری ہونے والا سرکاری ڈیٹاسیٹ ضلع وار اور شہر کی سطح پر رجحانات کی واضح تصویر پیش کرے گا۔ اس میں یہ بھی سامنے آئے گا کہ آیا سرینگر کا بوجھ قومی اوسط سے کس حد تک زیادہ ہے۔ یہ ڈیٹا آئندہ صحتِ عامہ کی حکمتِ عملیوں کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرے گا، جن میں تمباکو نوشی کے خلاف ہدفی مہمات، ابتدائی اسکریننگ پروگرام اور فضائی آلودگی پر قابو پانے کے اقدامات شامل ہیں۔

فوری اقدامات نہ ہوئے تو خطرہ بڑھے گا

طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو سگریٹ نوشی کی بلند شرح اور مسلسل بگڑتی ہوئی فضائی آلودگی مل کر وادی میں پھیپھڑوں کے سرطان کے کیسز میں مزید تیز رفتار اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتِ حال محض ایک طبی بحران نہیں بلکہ ایک سنگین سماجی اور ماحولیاتی چیلنج بھی ہے جس پر فوری توجہ ناگزیر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں