دنیا کے سب سے سرد، ویران اور پُراسرار براعظم انٹارکٹیکا کے بارے میں طویل عرصے تک یہ سمجھا جاتا رہا کہ یہاں کی برفانی چادریں صرف فضا کے درجہ حرارت میں اضافے سے متاثر ہوتی ہیں مگر جدید سائنسی تحقیق نے اس تصور کو یکسر بدل دیا ہے، اب یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ سمندر کی گہرائیوں میں موجود گرم پانی خاموشی سے انٹارکٹیکا کی برف کو نیچے سے پگھلا رہا ہے،ایک ایسا عمل جو بظاہر نظر نہیں آتا، مگر اس کے اثرات نہایت دور رس اور خطرناک ہو سکتے ہیں۔
زمین کا برفانی قلعہ ارنٹارٹیکا (Antarctica) نہ صرف زمین کا سب سے سرد براعظم ہے بلکہ یہاں دنیا کی تقریباً 90 فیصد برف اور 70 فیصد تازہ پانی موجود ہے۔ یہ براعظم زمین کے موسمیاتی نظام میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی سفید برف سورج کی روشنی کو واپس خلا میں منعکس کرتی ہے، جس سے زمین کا درجہ حرارت متوازن رہتا ہے۔
انٹارکٹیکا کے گرد واقع Southern Ocean دنیا کے سمندری نظام کا ایک کلیدی جزو ہے۔ یہ سمندر نہ صرف حرارت کو جذب کرتا ہے بلکہ دنیا بھر میں سمندری دھاراؤں کے ذریعے اسے تقسیم بھی کرتا ہے۔ برف کی شیلفیں جو ایک خاموش محافظ کا کام کرتی ہیں انٹارکٹیکا کے ساحلوں کے ساتھ بڑی بڑی برفانی چادریں موجود ہیں جنہیں آئس شیلف (Ice Shelves) کہا جاتا ہے۔ یہ دراصل زمینی برف کا وہ حصہ ہوتی ہیں جو سمندر پر تیر رہا ہوتا ہے۔ یہ شیلف ایک مضبوط دیوار کی طرح کام کرتی ہیں جو اندرونی برف کو سمندر میں بہنے سے روکتی ہیں۔ اگر یہ شیلف کمزور ہو جائیں یا ٹوٹ جائیں تو ان کے پیچھے موجود برف تیزی سے سمندر میں شامل ہو سکتی ہے، جس سے عالمی سطح پر سمندر کی سطح میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
نیا خطرہ گرم سمندری پانی: ماضی میں سائنس دانوں کی توجہ زیادہ تر فضا کے درجہ حرارت پر مرکوز تھی۔ مگر اب تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اصل خطرہ سمندر کے نیچے چھپا ہوا ہے۔گہرے سمندر میں ایک خاص قسم کا پانی پایا جاتا ہے جسے“گرم گہرا پانی”(Warm Deep Water) کہا جاتا ہے۔ یہ پانی نسبتاً زیادہ گرم ہوتا ہے اور عام حالات میں سطح سے نیچے رہتا ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں یہ پانی انٹارکٹیکا کے قریب آ رہا ہے اور برف کی شیلف کے نیچے داخل ہو رہا ہے۔ University of Cambridge کی قیادت میں ہونے والی تحقیق نے اس عمل کے واضح شواہد فراہم کیے ہیں۔ اس تحقیق میں Southern Ocean کے گزشتہ 20 سال کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ گرم گہرا پانی آہستہ آہستہ انٹارکٹیکا کے قریب منتقل ہو رہا ہے۔ یہ کوئی نظریاتی امکان نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے جو اب ڈیٹا میں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ پانی نیچے سے کیوں پگھلاتا ہے؟جب گرم پانی برف کی شیلف کے نیچے پہنچتا ہے تو وہ نیچے سے برف کو پگھلانا شروع کر دیتا ہے۔ اس عمل کو“basal melting”کہا جاتا ہے۔یہ عمل اس لیے خطرناک ہے کیونکہ یہ نظر نہیں آتا۔ یہ مسلسل جاری رہتا ہے اوریہ برف کی بنیاد کو کمزور کرتا ہے۔نتیجتاً، برف کی شیلف اوپر سے ٹھیک دکھائی دے سکتی ہے مگر اندر سے کھوکھلی ہو چکی ہوتی ہے۔ 2002 میں Larsen B Ice Shelf کا اچانک ٹوٹ جانا اس بات کی واضح مثال ہے کہ برف کی شیلف کتنی جلدی ختم ہو سکتی ہے۔ چند ہفتوں میں ہزاروں سال پرانی برف ٹوٹ کر سمندر میں بہہ گئی۔اس واقعے نے سائنس دانوں کو خبردار کر دیا کہ برف کے نظام میں تبدیلیاں بہت تیزی سے ہو سکتی ہیں۔ گرم پانی کیوں بڑھ رہا ہے؟ یہ سوال نہایت اہم ہے۔ اس کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں: (اول)عالمی حدت (Global Warming)انسانی سرگرمیوں کے باعث فضا اور سمندر دونوں کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ (دوم) ہواؤں کے نظام میں تبدیلی: انٹارکٹیکا کے گرد چلنے والی ہوائیں سمندری پانی کو اوپر یا نیچے لے جا سکتی ہیں۔ اگر یہ ہوائیں بدل جائیں تو گرم پانی اوپر آ سکتا ہے۔ (سوم) سمندری دھارائیں: سمندری دھارائیں دنیا بھر میں حرارت کو منتقل کرتی ہیں۔ ان میں تبدیلی گرم پانی کو انٹارکٹیکا کی طرف لے جا سکتی ہے۔ اگر برف پگھل گئی تو کیا ہوگا؟یہ سوال اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ (چہارم) سمندر کی سطح میں اضافہ: اگر انٹارکٹیکا کی برف پگھلتی ہے تو سمندر کی سطح کئی میٹر تک بڑھ سکتی ہے۔ (پنجم) ساحلی علاقوں کا ڈوب جانا: دنیا کے بڑے شہر جیسے ممبئی، کراچی، لندن، اور نیویارک خطرے میں آ سکتے ہیں۔ (ششم) ماحولیاتی نظام میں تبدیلی: سمندری حیات، موسم، اور بارشوں کا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ (ہفتم) عالمی معیشت پر اثرات: یہ مسئلہ صرف ماحول تک محدود نہیں بلکہ معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے:زرعی زمینوں کا نقصان، پانی کی قلت، نقل مکانی (Migration) میں اضافہ اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان؎ (ہشتم) سائنس دانوں کی پریشانی: سائنس دان اس لیے پریشان ہیں کیونکہ: یہ عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔اس کی رفتار بڑھ سکتی ہے۔ اسے روکنا مشکل ہے۔اس کے اثرات عالمی ہوں گے۔سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ یہ تبدیلیاں آہستہ آہستہ ہو رہی ہیں، جس سے لوگوں کو فوری خطرہ محسوس نہیں ہوتا۔ (نہم) مستقبل کی پیش گوئیاں:سائنس دان مختلف ماڈلز کے ذریعے مستقبل کا اندازہ لگا رہے ہیں۔ اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو برف کے بڑے حصے ختم ہو سکتے ہیں، سمندر کی سطح تیزی سے بڑھے گی اور موسمیاتی نظام غیر مستحکم ہو جائے گا۔ اگرچہ صورتحال تشویشناک ہے، مگر مکمل طور پر ناامید ہونے کی ضرورت نہیں۔ اگر ہمیں اس ناگہانی آفت سے بچنا ہے تو کاربن اخراج میں کمی اورفوسل فیول کے استعمال کو کم کرنا ضروری ہے۔قابل تجدید توانائی، شمسی، ہوائی، اور دیگر صاف توانائی کے ذرائع اپنانے ہوں گے۔یہ ایک عالمی مسئلہ ہے جس کا حل بھی عالمی سطح پر ہی ممکن ہے۔
جدید ٹیکنالوجی اس مسئلے کو سمجھنے میں مدد دے رہی ہے:سیٹلائٹس زیرِ آب روبوٹس، ڈیٹا ماڈلنگ وغیرہ۔یہ سب ہمیں بہتر فیصلے کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف سائنس دانوں کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا ہے۔ ہر فرد، ہر ملک، اور ہر ادارے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔Antarctica میں گرم سمندری پانی کا داخل ہونا ایک خاموش مگر خطرناک تبدیلی ہے۔
University of Cambridge کی تحقیق نے یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ کوئی دور کا خطرہ نہیں بلکہ ایک جاری حقیقت ہے۔ اگر ہم نے بروقت اقدامات نہ کیے تو اس کے اثرات پوری دنیا کو متاثر کریں گے۔ مگر اگر ہم سنجیدگی سے کام کریں تو اس بحران کو کم کیا جا سکتا ہے۔ یہ صرف انٹارکٹیکا کی کہانی نہیں،یہ پوری انسانیت کے مستقبل کی کہانی ہے۔(یواین آئی)
