0

سرینگر جموں قومی شاہراہ اراضی حصول معاملہ میں2.61 کروڑ روپے واپس لینے کا حکم

سرینگر//9 مئی// جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی فرد کو ایسا مالی فائدہ اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی جو قانونی طور پر اس کا حق نہ ہو، کیونکہ سرکاری خزانے سے زائد رقم اپنے پاس رکھنا ”ناجائز دولت افزائی“ کے مترادف ہے۔ عدالت عالیہ نے سری نگر جموں قومی شاہراہ فور لیننگ منصوبے کے تحت اراضی حصول کے ایک معاملے میں زائد ادا کی گئی 2 کروڑ 61 لاکھ روپے سے زیادہ رقم کی واپسی کا حکم برقرار رکھا ہے۔جسٹس وسیم صادق نرگل نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ہندوستانی قانون میں ”اصولِ واپسی“ ایک تسلیم شدہ اصول ہے، جس کے تحت کسی شخص کو قانون سے زیادہ حاصل شدہ رقم واپس کرنا لازمی ہوتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ عوامی خزانے کی رقم کسی نجی فرد کے پاس غیر قانونی طور پر باقی نہیں رہ سکتی۔یو این ایس کے مطابق ہائی کورٹ نے پرنسپل ڈسٹرکٹ جج اننت ناگ کے ان احکامات کو برقرار رکھا جن کے تحت سنگم کے رہائشی علی محمد ڈار کو 2 کروڑ 61 لاکھ 34 ہزار 972 روپے بمعہ 6 فیصد سالانہ سود ایک ماہ کے اندر جمع کرانے کی ہدایت دی گئی تھی، بصورت دیگر یہ رقم لینڈ ریونیو ایکٹ کے تحت واجب الادا محصول کے طور پر وصول کی جائے گی۔درخواست گزار نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ سنگم، بجبہاڑہ میں واقع 6 کنال 2 مرلہ اراضی اور اس پر موجود ڈھانچے سری نگر جموں قومی شاہراہ کی توسیع کیلئے حاصل کئے گئے تھے اور 2014 میں ریفرنس کورٹ کی جانب سے طے شدہ معاوضہ سپریم کورٹ تک حتمی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔درخواست گزار کے مطابق ڈھانچوں کی مسماری کے عوض ادا کی گئی ایک کروڑ 2 لاکھ 54 ہزار 693 روپے کی رقم معاوضے کا حصہ نہیں تھی، تاہم نچلی عدالت نے زائد ادائیگی کا حساب لگاتے وقت اسے بھی شامل کر لیا۔ مزید کہا گیا کہ ایوارڈ حتمی ہونے کے بعد عدالت اپنے اختیارات کھو چکی تھی اور سی پی سی کی دفعہ 151 کے تحت کارروائی نہیں کر سکتی تھی۔تاہم جسٹس نرگل نے ان دلائل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نچلی عدالت نے ایوارڈ میں کوئی تبدیلی یا نظرثانی نہیں کی بلکہ صرف حسابی اور تحریری غلطی کو درست کرنے کیلئے اپنے موروثی اختیارات استعمال کئے تاکہ زائد ادا شدہ رقم کی واپسی ممکن بنائی جا سکے۔عدالت نے کہا کہ ایسا اقدام اس لئے ضروری تھا تاکہ عدالتی عمل کا غلط استعمال نہ ہو اور انصاف کے تقاضے پورے کئے جا سکیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ نچلی عدالت کے نتائج ریکارڈ، معروضی مواد اور حقائق کے منطقی جائزے پر مبنی ہیں اور ان میں کسی قسم کی بدنیتی، غیر معقولیت یا اختیارات کے ناجائز استعمال کا کوئی پہلو موجود نہیں۔ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اراضی حصول کے معاوضے میں صرف زمین کی قیمت شامل نہیں ہوتی بلکہ اس پر موجود ڈھانچے اور دیگر اثاثے بھی اس کا حصہ ہوتے ہیں۔ چونکہ ریفرنس کورٹ نے اپنے 15 جولائی 2014 کے فیصلے میں واضح کیا تھا کہ پہلے سے ادا شدہ رقم کل معاوضے سے منہا کی جائے گی، اس لئے اس میں ڈھانچوں کی مسماری کے عوض دی گئی رقم بھی شامل تصور ہوگی۔عدالت نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کی دفعہ 17-بی خود اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ اراضی حصول کے دوران زائد ادائیگی ممکن ہے اور قانون اس کی واپسی کا واضح طریقہ کار بھی فراہم کرتا ہے۔جسٹس نرگل نے کہا کہ چونکہ درخواست گزار ایک طویل عرصے تک زائد رقم سے فائدہ اٹھاتا رہا، اس لئے 6 فیصد سود کے ساتھ رقم واپس کرنے کا حکم مکمل طور پر قانونی، منصفانہ اور عدالتی اصولوں کے مطابق ہے۔عدالت نے یہ بھی ریمارکس دیئے کہ درخواست گزار کی جانب سے نظرثانی کی درخواست دائر کرنا دراصل زائد سرکاری رقم واپس کرنے سے بچنے کی ایک کوشش تھی۔ چنانچہ ہائی کورٹ نے درخواست خارج کرتے ہوئے 4 فروری 2026 اور 27 اپریل 2026 کے پرنسپل ڈسٹرکٹ جج اننت ناگ کے احکامات کو برقرار رکھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں