0

ایران کے معاملے پر اب مزید صبر نہیں کروں گا، چینی صدر سے ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ کا انتباہ

جمعہ 15 مئی /امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد سخت رخ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے معاملے پر ان کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو رہا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ساحل کے قریب ایرانی اہلکاروں کی جانب سے ایک بحری جہاز کو قبضے میں لینے کی اطلاعات ملی ہیں۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان جمعرات کو ہونے والی اس ملاقات میں تزویراتی طور پر اہم آبی گزرگاہ، آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔

چینی صدر نے آبنائے ہرمز کھولنے میں مدد اور ایران کو اسلحہ فراہم نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے: صدر ٹرمپ
واضح رہے کہ 28 فروری کو شروع ہونے والے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران نے اس گزرگاہ کو عملاً بند کر دیا تھا جس سے دنیا بھر میں توانائی کی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ چین، جو کہ ایران کا قریبی اتحادی اور اس کے تیل کا بڑا خریدار ہے، اس تنازع میں اہم کردار کا حامل ہے۔
امریکہ نے گزشتہ ماہ ایران پر فضائی حملے تو روک دیے تھے لیکن اس کی بندرگاہوں کا محاصرہ شروع کر دیا تھا۔
جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہوئے جب ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے اور افزودہ یورینیم کا ذخیرہ حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔
امریکی ٹی وی ’فاکس نیوز‘ کے پروگرام ’ہینیٹی‘ میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ’ میں اب مزید صبر کا مظاہرہ نہیں کروں گا، انہیں معاہدہ کر لینا چاہیے۔‘ یورینیم کے خفیہ ذخیرے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے غیر متوقع طور پر کہا کہ امریکہ کو یہ ذخیرہ صرف پبلک ریلیشنز (عوامی ساکھ) کے لیے حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا ’میرا نہیں خیال کہ یہ پبلک ریلیشنز کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے ضروری ہے، بس اگر یہ مجھے مل جائے تو مجھے بہتر محسوس ہو گا۔‘

دوسری جانب سمندری تجارتی راستوں پر کشیدگی برقرار ہے۔
عمان کے ساحل کے قریب افریقہ سے یو اے ای مویشی لے جانے والا ایک انڈین مال بردار جہاز دھماکے کے بعد ڈوب گیا۔
انڈیا نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے بتایا کہ عملے کے تمام 14 ارکان کو عمانی کوسٹ گارڈ نے بچا لیا ہے۔
برطانوی میری ٹائم سکیورٹی فرم ’وینگارڈ‘ کے مطابق جہاز کو میزائل یا ڈرون سے نشانہ بنایا گیا۔
اس کے علاوہ یو اے ای کی فجیرہ بندرگاہ کے قریب لنگر انداز ایک اور جہاز پر ’غیر مجاز افراد‘ کے سوار ہونے اور اسے ایران کی طرف لے جانے کی اطلاع ملی ہے۔
ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ صدر شی جن پنگ نے آبنائے ہرمز کو فوجی چھاؤنی بنانے اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس لگانے کی مخالفت کی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق چینی صدر نے ایران کو فوجی سامان نہ بھیجنے کا بڑا وعدہ بھی کیا ہے اور وہ مستقبل میں اس راستے پر انحصار کم کرنے کے لیے امریکہ سے مزید تیل خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
نومبر میں ہونے والے امریکی مڈٹرم انتخابات کے پیش نظر ٹرمپ اس مہنگی اور غیر مقبول جنگ کو ختم کرنے کے لیے چینی مدد کے خواہاں ہیں، تاہم تجزیہ کاروں کو شک ہے کہ چین اپنے سٹریٹجک کارڈ (ایران) پر زیادہ دباؤ ڈالے گا۔
فی الحال دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کی تجاویز مسترد کیے جانے کے بعد سفارت کاری معطل ہے لیکن ایران نے اپنی شرائط پر کچھ چینی اور جاپانی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی ہے جس سے آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک میں کچھ اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں