0

جموں و کشمیر پولیس دہشت گردی اور منشیات کے نیٹ ورک کے خاتمے کیلئے پوری قوت سے سرگرم :لیفٹیننٹ گورنر

جموں و کشمیر پولیس میں 3200 سے زائد کانسٹیبلز شامل، منوج سنہا نے تقرری نامے تقسیم کئے//منوج سنہا

سرینگر//20مئی// جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہانے بدھ کے روز جموں و کشمیر پولیس میں نئے بھرتی ہونے والے کانسٹیبلز کو تقرری نامے تقسیم کرتے ہوئے ان پر زور دیا کہ وہ مادر وطن کی وحدت، سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کیلئے پوری لگن، دیانتداری اور جذبہ قربانی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں۔جموں میں منعقدہ ایک پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر اس وقت ایسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے جن کی نوعیت مسلسل بدل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ، جرائم اور امن و قانون کو درپیش خطرات اب پہلے سے زیادہ پیچیدہ شکل اختیار کر چکے ہیں، اس لئے پولیس فورس کو ہر لمحہ مستعد، چوکنا اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے لیس رہنے کی ضرورت ہے۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں دشمن کھلے میدان میں کم اور پوشیدہ طریقوں سے زیادہ حملہ آور ہوتا ہے، اس لئے سیکورٹی ایجنسیوں کو جدید ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس نظام اور زمینی سطح کی نگرانی کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ منوج سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے ہمیشہ قربانی، بہادری اور عوامی خدمت کی شاندار مثالیں قائم کی ہیں اور نئے اہلکار اسی عظیم روایت کو آگے بڑھائیں گے۔لیفٹیننٹ گورنر نے نئے بھرتی ہونے والے اہلکاروں کو تلقین کی کہ وہ ٹیم ورک کو اپنی طاقت بنائیں کیونکہ جموں و کشمیر کو درپیش خطرات مختلف سیکورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان قریبی تال میل اور اشتراک کا تقاضا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب مختلف ادارے ایک دوسرے کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں، مشترکہ حکمت عملی تیار کرتے ہیں اور متحد ہو کر دشمن کا مقابلہ کرتے ہیں تو ایسی طاقت پیدا ہوتی ہے جسے کوئی ایک ادارہ اکیلے حاصل نہیں کر سکتا۔انہوں نے پاکستان کا نام لئے بغیر کہا کہ بھارت ہمیشہ امن، بقائے باہمی، خیر سگالی اور دوستانہ تعلقات کا حامی رہا ہے، تاہم ملک کو ایک ایسے پڑوسی کا سامنا ہے جو دنیا بھر میں دہشت گردی کے فروغ کیلئے بدنام ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے کانسٹیبلوں کو قانون و نظم برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے محاذ پر بھی پوری ہمت اور عزم کے ساتھ کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ دہشت گردی کے خطرے کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔یو این ایس کے مطابق منوج سنہا نے کہا کہ دہشت گردی اپنے آپ زندہ نہیں رہتی بلکہ اسے مالی معاونت، سہولت کاروں، خفیہ نیٹ ورکس اور منظم سپورٹ سسٹم کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ قانون کی مکمل طاقت استعمال کرتے ہوئے دہشت گردوں کی مالی معاونت کے ذرائع تلاش کرنا، ان کے نیٹ ورکس کو بے نقاب کرنا اور ہر قسم کے سپورٹ سسٹم کو مکمل طور پر تباہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جدید پولیسنگ کے ساتھ ساتھ بنیادی پولیسنگ کے اصولوں کو بھی فراموش نہیں کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے “بیٹ پولیسنگ” کو مو ¿ثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایک بیٹ کانسٹیبل یہ عزم کر لے کہ اس کے علاقے میں کوئی جرم نہیں ہوگا اور سرکاری یا عوامی زمین پر غیر قانونی قبضہ نہیں ہونے دیا جائے گا تو اس کے مثبت نتائج ضرور سامنے آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس کی وردی صرف ایک لباس نہیں بلکہ بہادری، قربانی، فرض شناسی اور قومی خدمت کی علامت ہے۔ انہوں نے نئے اہلکاروں سے کہا کہ جب بھی وہ یہ وردی پہنیں تو انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ وہ ایک ایسی عظیم روایت کا حصہ بن رہے ہیں جس نے ملک کی تاریخ میں اپنی قربانیوں سے سنہرے باب رقم کئے ہیں۔منوج سنہا نے “نشہ مکت جموں و کشمیر مہم” کے تحت جموں و کشمیر پولیس کی کارروائیوں کی بھی سراہنا کی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے منشیات فروشوں، اسمگلروں اور نوجوان نسل کو تباہی کی طرف دھکیلنے والے عناصر کے خلاف مو ¿ثر مہم شروع کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ منشیات کی اسمگلنگ کے تمام راستوں کو بند کرنے کیلئے ایک جامع منصوبہ تیار کیا گیا ہے اور آنے والے دنوں میں مزید سخت اور فیصلہ کن کارروائیاں عمل میں لائی جائیں گی۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے امید ظاہر کی کہ جموں و کشمیر پولیس مستقبل میں بھی عوام کے اعتماد پر پورا اترتے ہوئے امن و استحکام کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔اس موقع پر چیف سیکریٹری اتل ڈلوڈی جی پی نلین پربھات پرنسپل سیکریٹری داخلہ چندرکر بھارتی، اسپیشل ڈی جی کوا?رڈینیشن ایس جے ایم گیلانی، کمانڈنٹ جنرل ہوم گارڈز عبدالغنی میر، لیفٹیننٹ گورنر کے پرنسپل سیکریٹری ڈاکٹر مندیپ کے بھنڈاری سمیت پولیس اور سول انتظامیہ کے سینئر افسران اور نئے بھرتی ہونے والے اہلکاروں کے اہل خانہ بھی موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں