0

سپریم کورٹ کے ریمارکس کے بعد کشمیر میں آوارہ کتوں کے مسئلے پر نئی بحث

خطرناک اور پاگل کتوں سے نمٹنے کیلئے مو ¿ثر نظام نہ ہونے پر خدشات میں اضافہ
کشمیر میں آوارہ کتوں کابحران بدستور سنگین، نس بندی پروگرام تقریباً غیر فعال

سرینگر//20مئی/ سپریم کورٹ کی جانب سے خطرناک، پاگل یا انتہائی جارحانہ آوارہ کتوں کو مخصوص حالات میں تلف کرنے سے متعلق حالیہ ریمارکس کے بعد کشمیر میں ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے، جہاں ایک طرف عوام آوارہ کتوں کے بڑھتے حملوں سے خوفزدہ ہیں تو دوسری طرف جانوروں کے حقوق کیلئے کام کرنے والے حلقے اس فیصلے کے ممکنہ غلط استعمال پر تشویش ظاہر کر رہے ہیں۔سپریم کورٹ نے حالیہ سماعت کے دوران ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں بشمول جموں و کشمیر کو ہدایت دی کہ وہ آوارہ کتوں کو حساس عوامی مقامات سے دور رکھنے کیلئے مو ¿ثر اقدامات کریں۔ عدالت نے واضح کیا کہ “پاگل، لاعلاج یا واضح طور پر خطرناک اور جارحانہ” کتوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی، بشمول تلف کرنے کے اقدامات، ویٹرنری ماہرین کی جانچ اور متعلقہ قوانین کے تحت کی جا سکتی ہے۔عدالت عظمیٰ نے حکام کو خبردار بھی کیا کہ اگر ان ہدایات پر عمل درآمد میں غفلت برتی گئی تو متعلقہ افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہو سکتی ہے۔یو این ایس کے مطابق کشمیر میں آوارہ کتوں کا مسئلہ کئی برسوں سے عوام کیلئے ایک سنگین بحران بنا ہوا ہے۔ سرینگر سمیت وادی کے مختلف علاقوں میں شہری اکثر شکایت کرتے ہیں کہ کتوں کے غول سڑکوں پر لوگوں کا پیچھا کرتے ہیں، بچوں پر حملہ آور ہوتے ہیں اور صبح یا رات کے اوقات میں لوگوں کی نقل و حرکت کو خطرناک بنا دیتے ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برسوں کے دوران کتوں کے کاٹنے کے ہزاروں معاملات سامنے آئے ہیں، جبکہ عوامی حلقوں میں اس مسئلے کو فوری طور حل کرنے کا مطالبہ مسلسل زور پکڑ رہا ہے۔دوسری جانب جانوروں کے حقوق کیلئے سرگرم تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگرچہ سپریم کورٹ کے ریمارکس صرف خطرناک یا پاگل کتوں تک محدود ہیں، تاہم کشمیر میں جانوروں کی جانچ، تحفظ اور نس بندی کے مناسب نظام کی عدم موجودگی کے باعث اس فیصلے کے غلط استعمال کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔سرینگر میونسپل کارپوریشن کے کمشنر فضل الحسیب نے اگرچہ نس بندی پروگرام جلد دوبارہ شروع کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے سرینگر میں آوارہ کتوں کی نس بندی کا عمل مکمل طور پر بند پڑا ہے۔جموں و کشمیر حکومت نے رواں سال فروری میں اسمبلی کو بتایا تھا کہ 2018 سے اب تک سرینگر میونسپل کارپوریشن نے 15,266 کتوں کی نس بندی کی ہے۔ ان میں 2023 کے دوران 6964 اور 2024 میں 7546 کتوں کی نس بندی شامل ہے، جبکہ اگست اور ستمبر 2025 میں مزید 935 کتوں کی نس بندی کی گئی تھی۔ تاہم اس کے بعد سرکاری مرکز میں یہ عمل بند ہوگیا۔وادی کشمیر کے دیگر اضلاع میں بھی اینیمل برتھ کنٹرول پروگرام تقریباً غیر فعال بتایا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے آوارہ کتوں کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ کئی علاقوں میں والدین اپنے بچوں کو اسکول چھوڑنے کیلئے خود جاتے ہیں کیونکہ راستوں میں آوارہ کتوں کے غول موجود رہتے ہیں۔ بعض علاقوں میں بزرگ افراد صبح سویرے گھروں سے نکلنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔جانوروں کے حقوق کیلئے سرگرم تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومت کی پالیسی اور زمینی سطح پر دستیاب بنیادی ڈھانچے کے درمیان موجود خلا ایک خطرناک صورتحال پیدا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر فوری طور پر مو ¿ثر نس بندی پروگرام، پناہ گاہیں، ویٹرنری سہولیات اور فضلہ انتظامیہ کا نظام بہتر نہ بنایا گیا تو کشمیر میں آوارہ کتوں کا بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں