اب ملک بڑی حد تک دہشت گردی، شورش اور نکسل ازم سے آزاد// امیت شاہ
سرینگر//19 مئی/ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت اب بڑی حد تک جموں و کشمیر میں دہشت گردی، شمال مشرقی ریاستوں میں شورش اور نکسل ازم جیسے بڑے داخلی سلامتی کے مسائل سے آزاد ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران مرکزی حکومت کی پالیسیوں، سیکورٹی فورسز کی قربانیوں اور مسلسل کارروائیوں کے نتیجے میں ملک کی داخلی سلامتی کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔یو این ایس کے مطابق امت شاہ نے یہ بات چھتیس گڑھ کے جگدل پور میں ایک عوامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وہ اس وقت تین روزہ دورے پر چھتیس گڑھ میں موجود ہیں، جو مارچ 2026 میں ملک کو نکسل تشدد سے بڑی حد تک پاک قرار دیے جانے کے بعد ان کا پہلا دورہ ہے۔اپنے خطاب میں مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ ایک وقت تھا جب جموں و کشمیر میں دہشت گردی، شمال مشرق میں شورش اور ملک کے کئی حصوں میں نکسل ازم حکومت کیلئے بڑے چیلنج بنے ہوئے تھے، لیکن آج صورتحال کافی تبدیل ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت بننے کے وقت ملک کو داخلی سلامتی کے متعدد سنگین خطرات کا سامنا تھا۔امت شاہ نے کہا”2014 میں جب مودی حکومت اقتدار میں آئی تو جموں و کشمیر میں دہشت گردی، شمال مشرقی ریاستوں میں شورش اور بائیں بازو کی انتہا پسندی ملک کیلئے بڑے مسائل تھے۔ آج میں یہ اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ بھارت بڑی حد تک ان تینوں مسائل سے آزاد ہو چکا ہے۔“انہوں نے کہا کہ نکسل ازم کے خلاف جنگ میں سیکورٹی فورسز کے سینکڑوں جوانوں نے اپنی جانوں کی قربانی دی اور انہی قربانیوں کی بدولت ملک آج ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔مرکزی وزیر داخلہ نے کہا”یہ ملک کیلئے ایک تاریخی لمحہ ہے۔ نکسل ازم سے آزاد بھارت ایک خواب تھا، جو ہمارے بہادر جوانوں کی قربانیوں اور حکومت کی مضبوط پالیسیوں کے ذریعے حقیقت میں تبدیل ہوا۔“امت شاہ نے بستر خطے کے عوام سے اپیل کی کہ وہ ہتھیار ڈال چکے تقریباً تین ہزار سابق نکسل پسندوں کو قبول کریں اور انہیں قومی دھارے میں شامل ہونے میں مدد دیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقی، تعلیم، روزگار اور امن کے ذریعے ہی ملک کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں بستر سمیت قبائلی علاقوں کی ترقی کیلئے پوری سنجیدگی سے کام کر رہی ہیں اور آئندہ پانچ برسوں میں بستر ملک کا سب سے ترقی یافتہ قبائلی علاقہ بن سکتا ہے۔امت شاہ نے اس موقع پر اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ 1970 کی دہائی میں شروع ہونے والی بائیں بازو کی انتہا پسندی نے ملک کی تین نسلوں کو متاثر کیا۔ انہوں نے کہا کہ تشدد، خوف اور عدم استحکام کی وجہ سے ان علاقوں کے لوگ بنیادی سہولیات، تعلیم، صحت اور ترقی سے محروم رہے۔مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ اب حکومت کی کوشش ہے کہ سابق شدت پسندوں کو قومی دھارے میں واپس لا کر انہیں ایک باعزت زندگی فراہم کی جائے تاکہ خطے میں مستقل امن قائم ہو سکے۔یہ تقریب بستر اکیڈمی آف ڈانس، آرٹ اینڈ لٹریچر کے کیمپس میں منعقد ہوئی جہاں نکسل تشدد میں مارے گئے مقامی افراد کے اہل خانہ، انسدادِ نکسل کارروائیوں میں بہادری کا مظاہرہ کرنے والے سیکورٹی اہلکاروں اور قبائلی رہنماو ¿ں نے بھی اپنے تجربات بیان کیے۔امت شاہ منگل کے روز جگدل پور میں منعقد ہونے والے 26ویں سینٹرل زونل کونسل اجلاس کی صدارت بھی کریں گے۔ اس اجلاس میں چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، اتر پردیش اور اتراکھنڈ کے وزرائے اعلیٰ شرکت کریں گے جبکہ داخلی سلامتی، بین الریاستی تعاون اور ترقیاتی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
