عید بازاروں میں نرخ بے قابو، سرکاری نگرانی کی کمی پر تشویش
غیر منظم منڈیاں، سرکاری نرخ نامے کے فقدان پر شہری نالاں، ریگولیشن کا کیا مطالبہ
سرینگر//21 مئی// جموں و کشمیر میں عیدالاضحیٰ کے قریب آتے ہی عید سامان،کپڑوں اور قربانی کے جانوروں اور مٹن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے، جس کے باعث عوامی سطح پر شدید بے چینی اور تشویش پائی جا رہی ہے۔ شہریوں اور صارفین کا کہنا ہے کہ اس سال منڈیوں میں صورتحال مکمل طور پر غیر منظم ہے اور قیمتوں پر کوئی مو ¿ثر حکومتی کنٹرول موجود نہیں ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق قربانی کے جانور مختلف منڈیوں میں مختلف نرخوں پر فروخت ہو رہے ہیں اور کہیں بھی کوئی واضح یا یکساں قیمت نامہ موجود نہیں ہے۔ خریداروں کا کہنا ہے کہ ایک ہی قسم کے جانور کی قیمت میں ہزاروں روپے کا فرق دیکھنے کو مل رہا ہے، جس سے عام آدمی کیلئے خریداری انتہائی مشکل ہو گئی ہے۔یو این ایس کے مطابق سرینگر کے رہائشی بشیر احمد نے کہا کہ اس بار منڈیوں میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق ایک ہی بھیڑ کی قیمت کہیں 35 ہزار روپے اور کہیں 45 ہزار روپے تک مانگی جا رہی ہے، جبکہ وزن یا معیار کے مطابق کوئی واضح پیمانہ نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ عید کے موقع پر لوگ مذہبی فریضہ ادا کرنے کیلئے جانور خریدتے ہیں، لیکن اس بار مہنگائی نے انہیں شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ایک اور شہری جاوید احمد نے کہا کہ پہلے ہی روزمرہ اشیائے ضروریہ، پٹرول اور سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ نے عوام کی کمر توڑ دی ہے، اور اب قربانی کے جانور بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق کئی خاندان اس سال صرف کم وزن جانور خریدنے یا اپنی ضروریات محدود کرنے پر مجبور ہیں۔شہریوں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ ماضی میں عید سے قبل محکمہ خوراک و رسد کی جانب سے باقاعدہ نرخ نامے جاری کئے جاتے تھے اور منڈیوں میں چیکنگ بھی ہوتی تھی، تاہم اس بار صورتحال مختلف ہے اور قیمتوں پر سرکاری نگرانی کمزور دکھائی دے رہی ہے۔محکمہ کے بعض اہلکاروں نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اب انہیں قیمتوں کے تعین اور نفاذ کے حوالے سے پہلے جیسی بااختیار پوزیشن حاصل نہیں ہے، جس کے باعث مارکیٹ میں بے قاعدگی بڑھ گئی ہے۔ ان کے مطابق پہلے نرخ نامے اور سخت چیکنگ کے باعث قیمتوں میں استحکام رہتا تھا، تاہم اب ریگولیشن کا نظام کمزور پڑ گیا ہے۔یو این ایس کے مطابق ادھر تاجروں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں فرق جانوروں کی نسل، وزن، خوراک اور دیکھ بھال کے اخراجات کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ہر جانور ایک جیسا نہیں ہوتا، اس لئے قیمتیں بھی مختلف ہوتی ہیں۔ایک تاجر نے کہا کہ بعض جانور خاص طور پر عید کیلئے کئی ماہ تک بہتر خوراک اور دیکھ بھال کے ساتھ تیار کئے جاتے ہیں، اس لئے ان کی قیمت زیادہ ہونا فطری ہے۔یو این ایس کے مطابق تاجروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ خریدار بہتر معیار کے جانور کو ترجیح دیتے ہیں اور خود زیادہ قیمت ادا کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ عید کی روایتی رونق کے برعکس اس سال بازاروں میں غیر معمولی سناٹا دیکھا جا رہا ہے۔ تاجروں کے مطابق کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں اور خریداروں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔مقامی دکانداروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث لوگ غیر ضروری خریداری سے گریز کر رہے ہیں اور صرف بنیادی ضروریات تک محدود ہیں۔ایک مٹن ڈیلر کے مطابق اس سال فروخت میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں تقریباً 70 فیصد تک کمی آئی ہے، جبکہ باہر سے لائے گئے جانوروں پر اٹھنے والے اخراجات بھی پورے نہیں ہو پا رہے۔اسی طرح بیکریوں اور ریڈی میڈ کپڑوں کی دکانوں پر بھی خریداروں کا رش معمول سے بہت کم ہے، جس سے مجموعی طور پر عید کی تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ منڈیوں میں فوری طور پر قیمتوں کا کنٹرول، باقاعدہ نرخ ناموں کا اجرا اور مو ¿ثر نگرانی کا نظام بحال کیا جائے تاکہ صارفین کو ریلیف مل سکے اور عیدالاضحیٰ کے موقع پر عام لوگوں کو مزید مالی دباو ¿ سے بچایا جا سکے۔
