0

وادی میں ایل پی جی صارفین کو ای،کے وائی سی میں مشکلات

سمارٹ فون نہ ہونے اور تکنیکی مسائل کے باعث گیس ریفل میں تاخیر
صارفین نے لگایا رازداری خدشات اور نظامی خامیوں پر سوالیہ نشان

سرینگر//21 مئی// وادی کشمیر میں ایل پی جی صارفین کو لازمی ای،کے وائی سی کے عمل کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے گیس ریفلنگ کے عمل میں تاخیر اور صارفین کی بڑی تعداد گیس ڈسٹری بیوٹروں کے دفاتر کا رخ کر رہی ہے۔اطلاعات کے مطابق حکومت کی جانب سے گیس کنیکشنز کی ریفلنگ کیلئے ای،کے وائی سی کو لازمی قرار دیے جانے کے بعد شہریوں کو آن لائن تصدیقی عمل میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ کئی صارفین کے پاس اسمارٹ فون نہ ہونے جبکہ بعض کو ایپلیکیشنز کے ذریعے درکار اجازتوں پر پرائیویسی خدشات لاحق ہیں۔یو این ایس کے مطابق سرینگر کے ایک صارف نثار احمد نے بتایا کہ ای،کے وائی سی کے لیے دو ایپس ڈاو ¿ن لوڈ کرنا پڑتی ہیں جن میں مختلف فون اجازتیں طلب کی جاتی ہیں، جس سے سکیورٹی اور پرائیویسی کے حوالے سے تشویش پیدا ہوتی ہے۔اسی طرح خواتین صارفین نے بھی اس عمل پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ کئی گھریلو خواتین کے پاس اسمارٹ فون نہیں ہیں، جس کے باعث وہ خود سے ای،کے وائی سی مکمل نہیں کر سکتیں۔ ایک صارف صبا شیخ نے کہا کہ یو جے جے والا اسکیم کے تحت گیس کنیکشن تو ملا ہے لیکن اسمارٹ فون نہ ہونے کی وجہ سے آن لائن تصدیق ممکن نہیں۔ادھر گیس ڈسٹری بیوٹرز کے دفاتر میں ای،کے وائی سی کے باعث صارفین کا غیر معمولی رش دیکھنے میں آ رہا ہے، جس سے نظام پر اضافی دباو ¿ بڑھ گیا ہے۔ بعض صارفین نے یہ بھی شکایت کی ہے کہ انہیں گیس ڈیلیوری کے بارے میں ایس ایم ایس موصول ہوتے ہیں لیکن اصل سپلائی میں مسائل سامنے آ رہے ہیں۔ڈسٹری بیوٹروںکے مطابق ای،کے وائی سی مکمل ہونے تک ریفلنگ کا عمل مکمل نہیں کیا جا سکتا، جس کے باعث صارفین اور عملے دونوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ صارفین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس نظام کو آسان بنایا جائے اور دیہی و کم آمدنی والے طبقے کے لیے متبادل طریقہ کار فراہم کیا جائے تاکہ عوام کو بنیادی سہولت میں رکاوٹ نہ آئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں