0

دورہ کشمیر خوف اور غلط فہمیوں کو دور کرتا ہے: اختر الایمان

سری نگر، 21 مئی : اختر الایمان نے جمعرات کے روز کہا کہ جموں و کشمیر کے پانچ روزہ مطالعاتی دورے نے انہیں وادی کے پُرامن ماحول، لوگوں کی مہمان نوازی اور اقلیتوں کی حالت سے متاثر کیا ہے۔ سری نگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفد کشمیر آیا تھا تاکہ اقلیتوں کی حالت، خطے کے ماحول اور جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا جا سکے۔ ان کے مطابق اس دورے نے کشمیر کے بارے میں پائے جانے والے خوف اور غلط فہمیوں کو دور کرنے میں مدد دی۔
انہوں نے کہاکہ “پہلے کشمیر کا نام ہمارے ذہن میں خوف پیدا کرتا تھا، لیکن یہاں قیام کے دوران ہم نے ہر طرف امن دیکھا۔ یہاں کے لوگ نہایت خوش اخلاق اور باعزت ہیں، جبکہ کشمیریوں کی مہمان نوازی قابلِ تعریف ہے۔”
اخترالایمان نے بتایا کہ وفد نے کشمیر میں کام کرنے والے بہار کے مہاجر مزدوروں اور تاجروں سے بھی ملاقات کی، جنہوں نے وادی میں اپنی حفاظت اور اچھے برتاؤ پر اطمینان کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہاکہ “بہت سے مزدوروں نے ہمیں بتایا کہ وہ یہاں کئی دوسری ریاستوں کے مقابلے میں زیادہ عزت اور وقار کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔”
دورے کے دوران وفد نے سینئر سیاسی رہنماؤں، بشمول فاروق عبداللہ اورسجان لون، کے علاوہ مذہبی علما اور سول سوسائٹی کے ارکان سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے بتایا کہ عبداللہ نے اس بات پر زور دیا کہ دیرپا امن کے لیے انصاف اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی ضروری ہیں۔
بہار کے رکنِ اسمبلی نے کشمیر یونیورسٹی کا دورہ بھی کیا، جہاں انہوں نے فارسی زبان کی تعلیم کے فروغ کو سراہا۔ انہوں نے کشمیر کے تعلیمی نظام اور صحت کے ماحول کی بھی تعریف کی اور کہا کہ خطے کی آب و ہوا اور سماجی فضا عوامی فلاح و بہبود پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔
جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ دینے کے مطالبے کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ عوام سے کیے گئے جمہوری وعدے پورے کیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے کہاکہ “جمہوریت کو مضبوط بنانے اور انصاف کو یقینی بنانے کی کوششیں جاری رہنی چاہئیں تاکہ امن برقرار رہے۔”
انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ’’مذہبی انتہا پسندی‘‘ پر مبنی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تقسیم پیدا کرنے والی سیاست کے ذریعے حکومت مؤثر انداز میں نہیں چل سکتی۔
انہوں نے کہاکہ “لوگ مذہبی انتہا پسندی کے ذریعے حکومت حاصل کر سکتے ہیں، لیکن حکومت نہیں چلا سکتے۔ حکومت ٹیکس کے پیسے سے چلتی ہے۔ اس وقت بی جے پی حکومت مکمل طور پر ناکام ہے، اس لیے ان کی واحد فکر کشیدگی پیدا کرنا اور اپنی خامیوں کو چھپانا ہے۔”
ملکی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی کے لیے امن، انصاف اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق ہندوستان تمام مذاہب اور برادریوں کے لوگوں کا ملک ہے، اور ترقی کو یقینی بنانے کے لیے بھائی چارہ اور انصاف برقرار رکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہاکہ “ہم عقیدت کے ساتھ بھگوان رام کا نام لیتے ہیں، لیکن ساتھ ہی ملک کو سائنس، ٹیکنالوجی اور اقتصادی ترقی میں بھی آگے بڑھنا چاہیے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ پائیدار ترقی صرف امن کے ماحول میں ممکن ہے، اور امن بھی صرف انصاف کے ذریعے برقرار رہ سکتا ہے۔
یواین آئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں