0

جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات کی تیاری تیز پنچایتی الیکشن کی راہ ہموار،سرکاری وانتظامی مشینری متحرک

جمہوریت کے نئے مرحلے کی تیاری، دیہی سیاست میں سرگرمیاں بڑھ گئیں

سرینگر//21 مئی/ جموں و کشمیر میں آئندہ پنچایت انتخابات کے انعقاد کی تیاریاں فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔ انتخابی عمل سے متعلق انتظامی سرگرمیوں، زمینی سطح پر تیاریوں اور عوامی رابطہ مہم میں تیزی کے ساتھ دیہی علاقوں میں سیاسی ماحول بھی گرم ہونے لگا ہے۔ حکام کے مطابق انتخابی نظام کو شفاف، جامع اور مو ¿ثر بنانے کیلئے مختلف سطحوں پر اقدامات کئے جا رہے ہیں، جبکہ پنچایتی اداروں کو مقامی ترقی اور دیہی حکمرانی کا بنیادی ستون تصور کیا جا رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق جموں و کشمیر اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے پنچایت انتخابی فہرست 2026 کی حتمی اشاعت عمل میں لاتے ہوئے یونین ٹیریٹری میں آئندہ پنچایت انتخابات کی تیاریوں کو باضابطہ طور پر ایک اہم مرحلے میں داخل کر دیا۔ کمیشن کی جانب سے سالانہ نظرثانی عمل مکمل کئے جانے کے بعد نئی انتخابی فہرست جاری کی گئی ہے، جس میں ووٹروں کی مجموعی تعداد 72 لاکھ 24 ہزار 131 تک پہنچ گئی ہے۔حکام کے مطابق نظرثانی عمل یکم اپریل 2026 کو کوالیفائنگ تاریخ مقرر کرتے ہوئے انجام دیا گیا۔ کمیشن نے کہا کہ انتخابی فہرستوں کی تیاری کیلئے ڈرافٹ رولز 27 مارچ 2026 کو شائع کئے گئے تھے، جس کے بعد دعووں اور اعتراضات کے اندراج کیلئے 40 روزہ مدت مقرر کی گئی جو 5 مئی تک جاری رہی۔یو این ایس کے مطابق اس دوران مختلف اضلاع سے موصول ہونے والے دعووں اور اعتراضات کا جائزہ متعلقہ الیکٹورل رجسٹریشن افسران اور اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن افسران نے لیا، جبکہ 14 مئی تک تمام معاملات نمٹانے کے بعد 21 مئی کو حتمی فہرست شائع کی گئی۔کمیشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مجموعی ووٹروں میں 36 لاکھ 62 ہزار 502 مرد ووٹر، 35 لاکھ 61 ہزار 488 خواتین ووٹر جبکہ 141 تھرڈ جینڈر ووٹر شامل ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ نظرثانی، جو جنوری 2025 میں مکمل کی گئی تھی، کے مقابلے میں اس بار ووٹروں کی تعداد میں 2 لاکھ 26 ہزار 40 کا خالص اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس سے قبل ووٹروں کی مجموعی تعداد 69 لاکھ 98 ہزار 91 تھی۔کمیشن کے مطابق نظرثانی عمل کے دوران 3 لاکھ 39 ہزار 384 نئے ووٹروں کو انتخابی فہرست میں شامل کیا گیا، جسے حکام نے نوجوان ووٹروں کی بڑھتی ہوئی شمولیت کا اہم اشارہ قرار دیا ہے۔اس کے علاوہ مختلف وجوہات جیسے وفات، مستقل منتقلی، دوہری اندراج یا دیگر قابل قبول بنیادوں پر 1 لاکھ 13 ہزار 344 ووٹروں کے نام فہرست سے حذف کئے گئے۔ حکام نے بتایا کہ اس دوران 17 ہزار 664 ووٹروں کی تفصیلات میں ضروری تصحیحات کی گئیں جبکہ 31 ہزار 590 ووٹروں کے نام ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل کئے گئے۔یو این ایس کے مطابق کمیشن کے مطابق نظرثانی عمل کے دوران مجموعی طور پر 5 لاکھ 10 ہزار 285 فارم موصول ہوئے جنہیں پنچایت الیکشن بوتھ افسران، اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن افسران اور دیگر متعلقہ حکام نے کمیشن کی مقرر کردہ ٹائم لائن اور ضابطوں کے مطابق نمٹایا۔اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے کہا کہ ووٹر بیداری پروگرام کے تحت عوامی سطح پر شعور بیدار کرنے کیلئے مختلف اقدامات کئے گئے۔کمیشن کے مطابق پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا، ریڈیو جِنگلز، اخباری اشتہارات، ہورڈنگز، موبائل بیداری گاڑیوں اور دیگر ذرائع کے ذریعے لوگوں کو انتخابی عمل میں شرکت کیلئے ترغیب دی گئی۔ضلعی انتظامیہ نے بھی مختلف علاقوں میں بیداری مہم چلاتے ہوئے نوجوان ووٹروں اور نئے اندراج کروانے والوں تک رسائی حاصل کی۔سیاسی مبصرین کے مطابق پنچایت انتخابی فہرستوں کی حتمی اشاعت کو آئندہ پنچایت انتخابات کی تیاریوں میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق خطے میں پنچایتی اداروں کو دیہی سطح پر حکمرانی اور ترقیاتی عمل کیلئے اہم ستون مانا جاتا ہے، جبکہ انتخابی فہرستوں کی بروقت نظرثانی کو جمہوری عمل کے استحکام کیلئے ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔ریاستی الیکشن کمشنر شانت منونے انتخابی فہرستوں کی کامیاب تکمیل پر ضلعی پنچایت الیکشن افسران، الیکٹورل رجسٹریشن افسران، پنچایت الیکشن بوتھ عملے، دیہی ترقی و پنچایتی راج محکمہ اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی کوششوں کو سراہا۔کمیشن نے کہا کہ نوجوان ووٹروں کی بڑی تعداد کی شمولیت جمہوری عمل کیلئے ایک مثبت اشارہ ہے اور اس سے پنچایتی سطح پر عوامی نمائندگی مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں